قومی

Irfan Solanki Gangster Case: سماج وادی پارٹی کے سابق ایم ایل اے عرفان سولنکی کو ہائی کورٹ سے نہیں ملی راحت، گینگسٹر کیس میں عرضی خارج

اتر پردیش کے کانپور کی سیسامؤ سیٹ سے سابق رکن اسمبلی اور سماج وادی پارٹی کے لیڈر عرفان سولنکی کو الہ آباد ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے گینگسٹر کیس میں ان کی عرضی کو خارج کر دیا، جس میں انہوں نے نچلی عدالت میں چل رہے مقدمے کو منسوخ کرنے کی مانگ کی تھی۔ کانپور کی سیسامؤ سیٹ سے منتخب ہونے والے عرفان سولنکی نے 12 جنوری کو الہ آباد ہائی کورٹ میں اپنی عرضی دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ نے اس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا تھا اور اب اس عرضی کو خارج کرتے ہوئے ان کے لیے قانونی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق عرفان سولنکی کے خلاف کانپور کے جاجمؤ تھانے میں دسمبر 2022 میں گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد، ستمبر 2025 میں انہیں ہائی کورٹ سے ضمانت مل چکی تھی۔ ضمانت ملنے کے بعد انہوں نے عدالت میں عرضی دائر کی کہ نچلی عدالت میں مقدمے کی کارروائی کو ختم کیا جائے، لیکن ہائی کورٹ نے اس اپیل کو خارج کر دیا۔

الزامات کیا ہیں؟
پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق عرفان سولنکی کو ایک گینگ کا سربراہ قرار دیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی رضوان سولنکی اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر عام شہریوں کو ڈرا دھمکا کر مالی فائدہ حاصل کیا اور زمین اور جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ مقدمے میں الزام تھا کہ عرفان سولنکی اور ان کے بھائی رضوان سمیت تین دیگر افراد نے نظیر فاطمہ کے پلاٹ پر قبضہ کرنے کے لیے ان کے گھر میں آگ لگا دی۔ اس کیس میں کانپور کی اسپیشل ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے سولنکی اور دیگر کو مجرم قرار دیتے ہوئے سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا کے نتیجے میں عرفان سولنکی کی اسمبلی رکنیت بھی منسوخ ہو گئی تھی۔ سابق رکن اسمبلی نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی، لیکن عدالت نے انہیں کوئی راحت نہیں دی۔ عرفان سولنکی کا موقف تھا کہ ایف آئی آر ایک سیاسی سازش کا حصہ ہے اور انہیں پھنسانے کی کوشش کی گئی، تاہم ہائی کورٹ نے ان کی دلیل خارج کر دی۔

قانونی اور سیاسی پہلو
اس فیصلے کے بعد عرفان سولنکی کی سیاسی اور قانونی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ سابق رکن اسمبلی کے خلاف جاری قانونی کارروائی اور مجرمانہ الزامات نے ان کے عوامی تشخص اور پارٹی میں حیثیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد اب یہ کیس نچلی عدالت میں جاری کارروائی کے لیے دوبارہ فعال ہو جائے گا اور قانونی ماہرین کے مطابق عرفان سولنکی کے لیے آئندہ عدالتوں میں اپنی ساکھ برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ یہ معاملہ نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی گہری بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، کیونکہ سابق رکن اسمبلی کے خلاف سنگین الزامات ہیں جو سماج میں سنجیدہ قانونی اور سیاسی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

7 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

7 hours ago