حج کمیٹی آف انڈیا اور سنٹرل وقف کونسل( حکومتِ ہند ) کے سابق رکن محمد احمد نے میڈیا کے نمائندوں اور اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اہم اورخاص گفت و شنید میں واضح کیا ہے کہ مذہب اسلام میں تشدد، بالخصوص ہجوم کے ذریعے قتل و غارت گری، کی نہ کوئی جگہ ہے اور نہ ہی کوئی جواز۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں پیش آنے والے ہجومی تشدد اور قتل جیسے واقعات ہم سب کو یہ مجبور کرتے ہیں کہ ہم دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے خود احتسابی کریں، ساتھ ہی ایسے عمل کی ہمیں مذمت کی بھی ضرورت ہے۔ محمد عرفان احمد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر پیغمبرِاسلام حضور محمدﷺ، قرآن شریف یامذہب اسلام کے نام پر کسی انسان کی جان لے لی جائے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں شدید اخلاقی اور دینی انحراف ہورہاہے۔ دین کا بنیادی مقصد انسانی وقار اور عزتِ نفس کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق یہ محض ایک سیاسی یا قانونی بحران نہیں بلکہ ایک گہرا اخلاقی اور مذہبی بحران ہے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ ایک سنجیدہ اسلامی نقطۂ نظر ایک تلخ مگر واضح حقیقت سے شروع ہوتا ہے۔ الحاج عرفان احمد نے قرآنِ مجید کی اس بنیادی تعلیم کی یاد دہانی کرائی:’’جس نے کسی ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا‘‘ (سورۂ مائدہ: 32)۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس آیت مبارکہ میں غصے، مذہبی جذبات یا اشتعال کے لیے کوئی استثنا موجود نہیں، البتہ انسانی جان کی حرمت کسی عوامی رائے یاہجومی فیصلے کی محتاج نہیں ہے۔
ہجومی تشدد انتہائی خطرناک عمل
انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کیا کہ برصغیر کے کئی حصوں میں توہینِ مذہب کے الزامات اجتماعی جنون کی شکل اختیارکر لیتے ہیں، جہاں افواہیں ثبوتوں کی جگہ لے لیتی ہیں، لہذا ہجوم عدالت بن جاتا ہے اور تشدد کو انصاف سمجھ لیا جاتا ہے۔ محمد عرفان احمد کے مطابق اسکا نتیجہ مذہب کا دفاع نہیں بلکہ اسکی مسخ شدہ تصویر ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قرآن کریم اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ اہلِ ایمان کو تمسخر، توہین اور اشتعال کا سامنا کرنا پڑے گا، مگر اسکے جواب میں قرآن شریف کاحکم حیرت انگیز طور پرصبر و تحمل پر مبنی ہے۔ دراصل قرآن مجید کہیں بھی عام مسلمانوں کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ توہین کے جواب میں تشدد کریں، تاہم یہ خاموشی اتفاقی نہیں بلکہ ایک بلند اخلاقی حکمت کی عکاس ہے. الحاج عرفان احمد کے مطابق جنوبی ایشیا میں توہینِ مذہب کے الزامات اکثر مذہبی اقلیتوں، غریبوں ،کمزورطبقات، اصلاح پسندوں اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کیخلاف استعمال کیے جاتے ہیں، نیز یہ انتخابی اطلاق اس حقیقت کو عیاں کرتاہے کہ مسئلہ عقیدت سے زیادہ اقتداراور کنٹرول کا بن چکاہے،
اخلاقیات پر مبنی دینی تعلیم کو فروغ دیا جائے
اخلاقیات پر مبنی دینی تعلیم کو فروغ دیا جائے اور اقلیتوں کے تحفظ کو دینی فریضہ سمجھا جائے،نہ کہ کسی پر احسان۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خاموشی غیرجانبداری نہیں ہوتی؛ جب اسلام کے نام پر ظلم ہو اور مسلمان خاموش رہیں تو۔ دراصل دین ہی مجروح ہوتا ہے۔آخر میں محمدعرفان احمد نے کہا کہ ہمارے سامنے دوواضح راستے ہیں: یا تو ہم اس راہ پرچلتے رہیں جہاں دین کو خوف، خونریزی اور جبر سے جوڑا جاتاہے، یا پھر اسلام کوعدل، نیز رحمت اور ضبطِ نفس پر مبنی ایک اخلاقی قوت کے طور پر دوبارہ پیش کریں, تاہم مذہب اسلام کی حفاظت و تحفظ کے لیے لوگوں کوقتل کرنا ضروری نہیں، بلکہ اسکے لیے اخلاقی جرات درکارہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…
AFSPA کے تحت یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا حکم، 5 اضلاع کے 13 پولیس تھانوں…
’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…