قومی

India’s Retail Inflation Rises: ستمبر میں ہندوستان کی خوردہ مہنگائی 5.54 فیصد اور غذائی مہنگائی 7.74 فیصد تک پہنچی، دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح شہری علاقوں سے زیادہ

نئی دہلی: ہندوستان میں سالانہ بنیاد پر خوردہ مہنگائی کی شرح ستمبر 2026 میں بڑھ کر 5.54 فیصد (عارضی) ہوگئی، جو اگست میں 4.83 فیصد تھی۔ اسی دوران غذائی مہنگائی میں بھی نمایاں اضافہ درج کیا گیا اور صارفین کے غذائی قیمت اشاریے (سی ایف پی آئی) کے مطابق یہ شرح اگست کے 5.97 فیصد سے بڑھ کر ستمبر میں 7.74 فیصد تک پہنچ گئی۔ پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی ایچ ڈی سی سی آئی) کے صدر انیل گپتا نے کہا کہ تازہ اعداد و شمار صارفین کی قیمتوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ، بالخصوص غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے، کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے اثرات گھریلو قوتِ خرید اور اخراجات پر پڑ سکتے ہیں۔

پی ایچ ڈی سی سی آئی کے تخمینے سے زیادہ رہی مہنگائی

مہنگائی کی تازہ شرح پی ایچ ڈی سی سی آئی کے ’پرائس نیکسس انجن‘ (پی پی این ای) کے 4.42 فیصد کے تخمینے سے زیادہ ہے۔ ستمبر 2026 میں دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں بلند رہی۔ دیہی علاقوں میں صارف قیمت اشاریے (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی اگست کے 5.24 فیصد سے بڑھ کر ستمبر میں 6.08 فیصد ہوگئی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 4.31 فیصد سے بڑھ کر 4.88 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ غذائی مہنگائی کے معاملے میں بھی دیہی علاقوں میں زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ دیہی علاقوں میں غذائی مہنگائی اگست کے 6.17 فیصد سے بڑھ کر ستمبر میں 8.06 فیصد ہوگئی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 5.64 فیصد سے بڑھ کر 7.18 فیصد تک پہنچ گئی۔ انیل گپتا نے کہا کہ دیہی علاقوں میں مہنگائی کی بلند شرح اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ غذائی اشیا کی قیمتوں اور دیہی خاندانوں کے بجٹ پر ان کے اثرات پر مسلسل نظر رکھی جائے۔

ریستوراں سے متعلق خدمات میں سب سے زیادہ مہنگائی

کھپت کے بڑے زمروں میں ذاتی نگہداشت، سماجی تحفظ اور متفرق اشیا و خدمات کی قیمتوں میں ستمبر 2026 کے دوران سب سے زیادہ، 13.75 فیصد مہنگائی درج کی گئی۔ ریستوراں اور رہائشی سہولیات سے متعلق خدمات میں مہنگائی 9.36 فیصد رہی۔ اس کے بعد غذائی اشیا اور مشروبات میں 7.36 فیصد اور نقل و حمل کے شعبے میں 5.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے برعکس صحت کے شعبے میں مہنگائی نسبتاً کم، 1.40 فیصد رہی۔ تفریح، کھیل اور ثقافت کے شعبے میں یہ شرح 2.16 فیصد، اطلاعات و مواصلات میں 2.44 فیصد اور رہائش، پانی، بجلی، گیس اور دیگر ایندھن کے زمرے میں 2.74 فیصد درج کی گئی۔

پیاز کی قیمتوں میں 108 فیصد سے زیادہ اضافہ

انفرادی اشیا کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو ستمبر 2026 میں پیاز کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 108.09 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اگست میں یہ اضافہ 48.78 فیصد تھا۔ چاندی کے زیورات کی قیمتوں میں 87.80 فیصد، ادرک میں 62.85 فیصد، لہسن میں 54.62 فیصد اور لیموں کی قیمتوں میں 36.41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب کچھ اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی درج کی گئی۔ آلو کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر 11.50 فیصد اور ٹماٹر کی قیمتیں 8.62 فیصد کم ہوئیں۔ موٹر کاروں اور جیپوں کی قیمتوں میں 4.51 فیصد، بھنڈی میں 4.48 فیصد اور ناریل کی قیمتوں میں 3.99 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف اشیا کی قیمتوں میں تبدیلی کی شرح یکساں نہیں رہی۔ گپتا نے کہا کہ ستمبر 2026 کے مہنگائی کے اعداد و شمار غذائی اشیا کی قیمتوں اور نسبتاً بلند مہنگائی کے اسباب پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت کو نمایاں کرتے ہیں۔

گھریلو بجٹ اور کاروباری لاگت پر پڑ سکتا ہے اثر

منتخب صارف اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے کاروباری اداروں کی پیداواری لاگت، قیمتوں کے تعین اور گھریلو طلب پر اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب غذائی مہنگائی میں اضافے سے خاندانوں کی حقیقی قوتِ خرید متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر ان گھرانوں کی جن کے اخراجات کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر صرف ہوتا ہے۔ دیہی اور شہری بازاروں، مختلف ریاستوں اور کھپت کے زمروں کے لحاظ سے مہنگائی کا تفصیلی جائزہ پالیسی سازوں کو ان علاقوں اور شعبوں کی شناخت میں مدد دے سکتا ہے جہاں قیمتوں کا دباؤ زیادہ ہے۔ بدلتے حالات کے مطابق اقدامات طے کرنے کے لیے غذائی اشیا کی فراہمی، منڈیوں میں آمد، نقل و حمل اور تقسیم کے نظام کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سکریٹری جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر رنجیت مہتا نے کہا کہ کھپت کے مختلف زمروں میں مہنگائی کے رجحانات غیر یکساں ہیں۔ ذاتی نگہداشت، متفرق اشیا و خدمات، ریستوراں اور رہائشی سہولیات سے متعلق خدمات کے علاوہ بعض غذائی اشیا کی قیمتوں میں خاصا زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں کے دباؤ کا تفصیلی جائزہ، مؤثر لاجسٹکس، بہتر بازاری معلومات اور رسد کے محاذ پر مربوط اقدامات قیمتوں میں استحکام لانے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

SIR Punjab-13 Lakh Names Deleted: پنجاب میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے بعد 13 لاکھ سے زائد نام خارج، حتمی فہرست جاری

تقریباً 7.97 لاکھ نئے ووٹر شامل، حتمی فہرست میں 2.01 کروڑ سے زیادہ ووٹر درج،…

16 minutes ago

Girls Trafficking Arrest: کیسینو میں ملازمت کا جھانسہ، موبائل میں فحش تصاویر… نیپال سرحد پر میزورم کی دو لڑکیوں کے ساتھ بڑا حادثہ ٹلا

مغربی بنگال کے پانی ٹنکی میں بھارت-نیپال سرحد پر انسانی اسمگلنگ کے ایک معاملے میں…

32 minutes ago

Retail Inflation: مہنگائی نے بڑھائی لوگوں کی پریشانی، خوردہ مہنگائی دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچی

ستمبر 2026 میں خوردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 5.54 فیصد ہوگئی۔ سبزیوں سمیت کھانے…

1 hour ago

Delhi Metro Station Closure: دہلی میٹرو اسٹیشن بند کرنے کا فیصلہ کون کرتا ہے؟ جانیں پولیس، ڈی ایم آر سی اور قانون کی مکمل کارروائی

دہلی میں احتجاج اور مارچ کے دوران میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے اچانک…

2 hours ago