قومی

India’s remarkable progress in higher education: تعلیمی میدان میں بھارت کی نمایاں ترقی، ترقی یافتہ ممالک سے بھی آگے نکلا

گزشتہ ہفتے ایران اور اسرائیل تنازعہ کے شور میں بھارت کی تعلیمی میدان میں ایک تاریخی کامیابی کی خبر تقریباً نظروں سے اوجھل رہی۔ بھارت کے لیے یہ لمحہ نہایت اہم تھا، کیوں کہ عالمی سطح پر تعلیمی اداروں کی سب سے معتبر درجہ بندی QS ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 میں بھارت نے اپنی اب تک کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس سال 106 ممالک کی 8,000 یونیورسٹیوں میں سے 1,501 ادارے اس عالمی درجہ بندی میں شامل ہوئے، جن میں بھارت کے 54 تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ یہ تعداد بھارت کے لیے ایک ریکارڈ ہے، جو اسے جرمنی (48) اور جاپان (47) جیسے ترقی یافتہ ممالک سے بھی آگے لے گئی ہے۔ بھارت اب امریکہ، برطانیہ اور چین کے بعد چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔ یاد رہے 2014 میں صرف 11 بھارتی ادارے اس فہرست میں شامل تھے، یعنی ایک دہائی میں بھارت کی نمائندگی میں 390 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ کامیابی صرف معروف اداروں جیسے آئی آئی ٹی دہلی، بمبئی، مدراس، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بنارس ہندو یونیورسٹی تک محدود نہیں بلکہ کئی نجی یونیورسٹیز نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی 123ویں نمبر پر آ گیا ہے، جب کہ آئی آئی ٹی مدراس نے 47 درجے ترقی کرتے ہوئے پہلی بار ٹاپ 200 میں جگہ بنائی ہے۔

یہ پیش رفت محض اعداد و شمار کی تبدیلی نہیں بلکہ بھارت کی اعلیٰ تعلیم کے معیار، تحقیق، اختراع اور عالمی شراکت داری میں بہتری کی غمازی کرتی ہے۔ اس تبدیلی میں نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 (NEP) نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں حالیہ اصلاحات میں بین الاقوامی تعاون، ملٹی ڈسپلنری پروگرامز، آن لائن کورسز اور فیکلٹی میں لچ کدار تقرری جیسے اقدامات شامل ہیں۔

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بجا طور پر کہا کہ NEP نہ صرف نظام تعلیم کو بدل رہی ہے بلکہ اسے انقلابی طور پر جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس کامیابی کو ’’بھارتی نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت‘‘ قرار دیا۔اگرچہ بین الاقوامی طلبہ کی شمولیت جیسے کچھ شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے، لیکن بھارت کی جامعات اب افریقہ، ابوظہبی اور جاپان جیسے مقامات پر کیمپس قائم کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ادارے بھی بھارت میں قدم جما رہے ہیں۔

یہ کامیابیاں قابلِ فخر ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بیشتر ریاستی یونیورسٹیاں اب بھی مالی، تحقیقاتی، اور تدریسی مسائل سے دوچار ہیں۔ آج بھی تقریباً 18 لاکھ بھارتی طلبہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن پر سالانہ پانچ لاکھ کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت ایک ایسا تعلیمی ماڈل تشکیل دے جو عالمی معیار کا ہو مگر بھارتی تہذیب، اقدار اور علمی ورثے سے جڑا ہوا ہو۔ یہی مستقبل کی اصل کامیابی ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

7 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

9 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

9 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

10 hours ago