قومی

India’s digital payment model: بھارت کا ڈیجیٹل ادائیگی نظام ترقی پذیر ممالک کیلئے مثال، ملک دنیا کے جدید ترین ڈیجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹمز میں شامل

نئی دہلی: ایک نئی رپورٹ کے مطابق بھارت نے جدید تاریخ میں فِن ٹیک (مالیاتی ٹیکنالوجی) کے میدان میں ایک نہایت بڑا اور کامیاب انقلاب برپا کیا ہے، جس کی بدولت ملک آج دنیا کے جدید ترین ڈیجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹمز میں شامل ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کا یہ ماڈل اب دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن رہا ہے۔ آذربائیجان کے خبر رساں ادارے نیوز ڈاٹ اے زیڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا ماڈل اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح حکومتی پالیسی، تکنیکی جدت اور موبائل کنیکٹیویٹی مل کر ایک مؤثر ادائیگی کا نظام قائم کر سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی ڈیجیٹل ادائیگی کی یہ تبدیلی عالمی سطح پر ماہرین معیشت اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی توجہ حاصل کر رہی ہے، جو اسے دیگر ترقی پذیر معیشتوں کے لیے کامیاب ماڈل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ڈیجیٹل شناخت اور موبائل کنیکٹیویٹی کا کردار

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل شناختی نظام، تیزی سے بڑھتی موبائل کنیکٹیویٹی، جدید پیمنٹ پلیٹ فارمز اور حکومت کی معاون پالیسیوں کے امتزاج نے دنیا کے سب سے بڑے اور مؤثر ڈیجیٹل ادائیگی نظاموں میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔ حکومت کے مالی شمولیت کے پروگراموں نے بھی اس نظام کی مضبوط بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے ذریعے لاکھوں افراد کو ڈیجیٹل شناخت فراہم کی گئی۔

سستے اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی توسیع

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سستے اسمارٹ فون اور تیزی سے پھیلتی موبائل انٹرنیٹ خدمات نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو عام بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح پردھان منتری وائی فائی ایکسس نیٹ ورک انٹرفیس (PM-WANI) پروگرام کے ذریعے عوامی انٹرنیٹ سہولتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فروری 2026 تک اس منصوبے کے تحت 4,09,111 وائی فائی ہاٹ اسپاٹس قائم کیے جا چکے ہیں، جنہیں 207 پی ڈی او ایگریگیٹرز اور 113 ایپ فراہم کنندگان کی حمایت حاصل ہے۔ اس پروگرام کا مقصد خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں سستا اور تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے۔

یو پی آئی کا بڑا کردار

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل شناخت کو بینکاری اور موبائل خدمات سے جوڑنے کے بعد مالیاتی اداروں کے لیے صارفین کی شناخت کی محفوظ تصدیق اور تیز رفتار لین دین ممکن ہو گیا ہے۔ یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) نے نقد رقم پر انحصار کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے مالیاتی نظام میں شفافیت اور لین دین کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کے مطابق جنوری 2026 میں یو پی آئی کے ذریعے ہر ماہ تقریباً 28.33 لاکھ کروڑ روپے کے لین دین ہوئے، جبکہ اسی مدت میں 21.7 ارب ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں۔ یہ نظام موبائل فون کے ذریعے بغیر کسی اضافی لاگت کے فوری ادائیگی کی سہولت فراہم کرتا ہے اور شہروں سے لے کر دیہی علاقوں تک ہر طبقے میں مالی شمولیت کو فروغ دے رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

3 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

3 hours ago