بھارت کی وزارت زراعت نے 14 ریاستوں میں 6 کروڑ 10 لاکھ (61 ملین) کسانوں کو ڈیجیٹل شناختی کارڈ (کسان پہچان پتر) فراہم کیے ہیں، اور مالی سال 2027 کے اختتام تک 11 کروڑ (110 ملین) کسانوں کو یہ شناختی کارڈ دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ شناختی کارڈز زمین کے ریکارڈ سے منسلک ہیں اور ان میں فصلوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں، جن سے قرضہ، فصل بیمہ، اور پردھان منتری کسان سمان ندھی (PM-Kisan) کی ادائیگیوں کا عمل تیز ہوگا۔
ایک سینئر سرکاری افسر کے مطابق، یونین وزارت زراعت نے ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر ان شناختی کارڈز کی فراہمی کا آغاز کیا ہے، جو کسانوں کے زمین کے ریکارڈ سے جڑے ڈیٹا بیس کی تیاری میں مدد دیں گے۔
یہ کسان پہچان پتر کسانوں کی زمین، کاشت کی گئی فصلوں اور دیگر تفصیلات پر مشتمل ہوں گے۔ وزارت کا ہدف ہے کہ مالی سال 2027 تک 110 ملین کسانوں کو یہ منفرد شناختی کارڈ فراہم کیے جائیں۔
وزارت کے ایک افسر کے مطابق: “کسانوں کو قرضہ اور فصل بیمہ کی منظوری ان کے یونیک آئی ڈی کے ذریعے زیادہ تیز ہوگی، جبکہ PM-Kisan کی نقد رقم کی منتقلی بھی انہی آئی ڈیز سے منسلک کی جا رہی ہے۔”
اس پروگرام کے تحت اب تک جن 14 ریاستوں میں ڈیجیٹل شناختی کارڈز جاری کیے گئے ہیں، ان میں سب سے زیادہ کارڈز درج ذیل ریاستوں میں جاری ہوئے ہیں:
اتر پردیش (1.3 کروڑ)
مہاراشٹرا (99 لاکھ)
مدھیہ پردیش (83 لاکھ)
آندھرا پردیش (45 لاکھ)
گجرات (44 لاکھ)
راجستھان (75 لاکھ)
تمل ناڈو (30 لاکھ)
آسام، بہار، چھتیس گڑھ، اوڈیشہ، کیرالا، تلنگانہ اور مدھیہ پردیش نے بھی آئی ڈی فراہم کرنے میں پیش رفت کی ہے۔
ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ایک حصے کے طور پر شروع کیے گئے ایگری اسٹیک (AgriStack) منصوبے کے تحت، آئندہ چند برسوں میں آدھار جیسے ڈیجیٹل شناختی کارڈز تیار کیے جائیں گے۔ مالی سال 2025-26 میں 3 کروڑ اور 2026-27 میں 2 کروڑ کسانوں کو یہ شناختی کارڈز فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔
اندازے کے مطابق بھارت میں تقریباً 14 کروڑ کسان ہیں، جن میں سے 30 سے 40 فیصد کسان ایسی زمین پر کھیتی کرتے ہیں جو ان کی ملکیت نہیں ہے۔
زراعت کی وزارت نے پارلیمنٹ میں جمع کروائی گئی ایک رپورٹ میں بتایا کہ ڈیٹا کی ملکیت متعلقہ ریاستوں کے پاس ہے، اور کسان رجسٹری کی ایپلی کیشن میں کرایہ دار یا ٹھیکے پر زمین لینے والے کسانوں کو بھی شامل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے (UTs) اپنی پالیسی کے مطابق ایسے کسانوں کو رجسٹری میں شامل کر سکتے ہیں۔
فی الحال PM-Kisan اسکیم کے تحت، ایک API پر مبنی سافٹ ویئر کسانوں کے زمین کے ریکارڈ کی جانچ کرتا ہے۔ وزارت نے نئے درخواست دہندگان کے لیے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ زمین سے منسلک ڈیجیٹل آئی ڈی حاصل کریں۔
موجودہ مستفیدین پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا، تاہم یہ اقدام کسانوں کا مستند ڈیٹا بیس تیار کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ وزارت نے ریاستوں سے درخواست کی ہے کہ وہ زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کریں اور مستحقین کے نام اپ ڈیٹ کریں تاکہ کسانوں کی ڈیجیٹل شناختی کارڈز بن سکیں۔
اگر کوئی نیا درخواست دہندہ اپنی زمین کے بغیر PM-Kisan میں شامل ہونا چاہے، تو ریاستی ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو اس کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنا ہوگا۔
2817 کروڑ روپے کے ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن کے تحت، حکومت کا مقصد AgriStack، کرشی فیصلہ معاون نظام، اور مٹی کی زرخیزی و پروفائل کا جامع نقشہ تیار کرنا ہے تاکہ زرعی شعبے کا ایک مضبوط ماحولی نظام بنایا جا سکے۔
AgriStack تین بنیادی ڈیٹا بیس پر مشتمل ہے:
جغرافیائی حوالہ شدہ دیہاتی نقشے
فصل بوائی کا رجسٹر
کسان رجسٹری
حکومت نے خریف 2025 سے ریاستوں میں ڈیجیٹل فصل سروے بھی شروع کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نیو ٹاؤن میں اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی اور مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ…
جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی نے مجلس عاملہ کے فیصلوں پرر وشنی…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سنسکرت کا…
حادثے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔…
وڈ نگر سے وارانسی جانے والے نوجوانوں سے وزیر اعظم مودی نے کیا خطاب، کہا-…
2,000 بستروں والے ’اڈانی آروگیہ مندر‘ اسپتال کا رکھیں گے سنگِ بنیاد، ملاقات میں مغربی…