قومی

India-US Trade Deal: امریکہ کے ساتھ عظیم تجارتی معاہدہ 99 فیصد طے! پیوش گوئل کے بڑے بیان سے صنعتی حلقوں میں ہلچل تیز

بھارت اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات کے حوالے سے عالمی منڈی سے اس وقت ایک بڑی اور حوصلہ افزا خبر سامنے آ رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ تاریخی دوطرفہ تجارتی معاہدے (BTA) کا پہلا مرحلہ تقریباً طے پا چکا ہے۔ بھارت کے وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے پیر کے روز ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم معاہدے سے متعلق 99 فیصد مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں اور اب صرف آخری رسمی کارروائیاں باقی ہیں۔گزشتہ کئی ماہ سے جاری بات چیت کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی حکام کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھارت پہنچ چکا ہے، جو نئی دہلی میں 2 سے 4 جون تک ہونے والی انتہائی اہم میٹنگ میں شرکت کرے گا۔ توقع ہے کہ اس اجلاس کے بعد معاہدے کے پہلے مرحلے کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔

امریکی سفیر نے بھی دیے مثبت اشارے

پیوش گوئل نے واضح کیا کہ معاہدے کے بنیادی نکات پر دونوں ممالک مکمل طور پر متفق ہیں اور اب صرف تکنیکی امور اور دستاویزی کارروائی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے کے نفاذ کے فوراً بعد دونوں ممالک دوسرے مرحلے کے مذاکرات بھی شروع کر دیں گے۔بھارت میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ تقریباً حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔ تاہم امریکی قوانین اور ٹیکس ضوابط میں حالیہ تبدیلیوں کو معاہدے کی دستاویزات میں شامل کرنے کا عمل ابھی جاری ہے۔

بھاری ٹیرف سے مل سکتی ہے بڑی راحت

اس پورے مذاکراتی عمل میں بھارت کی سب سے بڑی ترجیح امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت عائد کیے جانے والے ممکنہ بھاری ٹیرف سے نجات حاصل کرنا ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے بھارتی برآمد کنندگان اور کمپنیوں کو امریکی منڈی میں زیادہ تحفظ اور بہتر مواقع حاصل ہوں، تاکہ وہ عالمی مسابقت میں مزید مضبوط پوزیشن حاصل کر سکیں۔اس معاہدے سے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر سرکاری جانچ کے عمل کو آسان بنانے اور غیر ضروری قانونی رکاوٹوں کو کم کرنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔

اقتصادی تعلقات کو ملے گی نئی بلندی

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دوطرفہ تجارتی معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوگا اور عالمی سپلائی چین کو ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد متبادل میسر آئے گا۔ یہ معاہدہ نہ صرف ٹیکس سے متعلق مشکلات کو کم کرے گا بلکہ دونوں ممالک کے لیے ایک دوسرے کی منڈیوں تک رسائی کو بھی زیادہ آسان اور لچکدار بنائے گا۔مجموعی طور پر 2 سے 4 جون تک جاری رہنے والا یہ تین روزہ اجلاس بھارت اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

World Mental Health Day: عالمی یومِ ذہنی صحت، دنیا میں ہر 7 میں سے 1 شخص ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، کئی ممالک کمیونٹی کی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات…

32 minutes ago

Sports News: ویسٹ انڈیز نے تاریخی ہدف حاصل کرکے ریکارڈز کی جھڑی لگا دی، شائی ہوپ کے نام بھی بڑی کامیابی

دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…

11 hours ago