نئی دہلی: بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے (ٹریڈ ڈیل) پر بات چیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس حوالے سے اگلی باضابطہ ملاقات منگل کو ہونے جا رہی ہے۔ یہ بات بھارت میں حال ہی میں تعینات ہونے والے امریکی سفیر سرجیو گور نے پیر کے روز نئی دہلی میں کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک اختلافات کے باوجود مسلسل رابطے میں ہیں اور تجارتی مذاکرات کسی تعطل کا شکار نہیں ہوئے ہیں۔ امریکی سفارت خانے میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے عملے اور صحافیوں سے گفتگو کے دوران سرجیو گور نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے نیک خواہشات کا پیغام بھیجا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر بھارت۔امریکہ تعلقات کو مضبوط اور کثیر جہتی قرار دیا۔
امریکی سفیر نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان دوستی حقیقی ہے۔ بھارت اور امریکہ کا تعلق صرف باہمی مفادات تک محدود نہیں بلکہ اعلیٰ ترین قیادت کے درمیان قائم ذاتی تعلقات سے بھی جڑا ہوا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ سچے دوست کئی معاملات پر اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن بالآخر بات چیت کے ذریعے مسائل حل کر ہی لیتے ہیں۔ سرجیو گور کے مطابق بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک سکیورٹی، انسداد دہشت گردی، توانائی، ٹیکنالوجی، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں بھی قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیرف اور مارکیٹ تک رسائی کے معاملے پر بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم اس کے باوجود بات چیت کا عمل مسلسل جاری ہے۔
امریکی سفیر نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگلے ماہ بھارت کو ’’پیکس سیلیکا‘‘ نامی نئے عالمی گروپ میں مکمل رکنیت کے لیے باضابطہ دعوت نامہ بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’پیکس سیلیکا‘‘ ایک نئی امریکی پہل ہے جس کا آغاز گزشتہ ماہ کیا گیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد اہم معدنیات، توانائی کے وسائل، ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی اور لاجسٹکس کے شعبے میں ایک محفوظ، خوشحال اور اختراعات پر مبنی سپلائی چین تیار کرنا ہے۔ گور کے مطابق اس گروپ میں گزشتہ ماہ جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور اسرائیل شامل ہوئے ہیں اور بھارت کی شمولیت سے یہ اتحاد مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک اہم عالمی شراکت دار ہے اور اس کی شرکت سے اس اقدام کو نئی رفتار ملے گی۔
سرجیو گور کے بیان سے امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے حالیہ تبصروں سے پیدا ہونے والی غلط فہمی بھی بڑی حد تک دور ہو گئی ہے۔ لٹنک نے کہا تھا کہ بھارت۔امریکہ تجارتی مذاکرات اس لیے رکے ہیں کیونکہ وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کو فون نہیں کیا۔ تاہم بھارت کی وزارت خارجہ نے ان بیانات کو مسترد کر دیا تھا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے واضح کیا کہ رپورٹس میں تجارتی بات چیت کے حوالے سے پیش کی گئی معلومات درست نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دو باہمی طور پر معاون معیشتوں کے درمیان فائدہ مند تجارتی معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسے جلد مکمل کرنے کا خواہاں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…
AFSPA کے تحت یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا حکم، 5 اضلاع کے 13 پولیس تھانوں…
’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…