عالمی سمندری تجارت کے سنگم پر حکمت عملی سے واقع بھارت بحر ہند کے علاقے (IOR) میں ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر خاموشی سے ابھرا ہے۔ جدید جغرافیائی سیاست میں، بحری طاقت صرف فوجی قوت سے آگے بڑھ چکی ہے، اور بھارت ہائیڈروگرافی، میٹریورولوجی، سمندری تحقیق، اور آفات سے نمٹنے کی تیاری جیسے نرم طاقت کے اوزاروں کے ذریعے اثر و رسوخ قائم کر رہا ہے۔ یہ اقدامات خطے کی استحکام اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے بھارت کی فعال ہائیڈروگرافک اور میٹریورولوجیکل ڈپلومیسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت کی یہ کوششیں نہ صرف معاشی ترقی کو فروغ دیتی ہیں بلکہ خطے کے ممالک کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات کو بھی یقینی بناتی ہیں، جو اسے ایک ترجیحی سمندری شراکت دار کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
ہائیڈروگرافک ڈپلومیسی: سمندری حدود اور وسائل کا انتظام
بھارت کی ہائیڈروگرافک ڈپلومیسی جامع، منظم، اور اشتراکی ہے۔ بھارت نے IOR ممالک کے ساتھ مل کر ہائیڈروگرافک سروے کیے ہیں، جو سمندری حدود کو واضح کرنے، وسائل کے انتظام، اور معاشی صلاحیت کو کھولنے میں مدد دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بھارت کی ہائیڈروگرافک مدد سے ماریشس نے اپنی خصوصی اقتصادی زون (EEZ) کو 13 لاکھ مربع کلومیٹر تک بڑھایا، جبکہ سیچیلز اور ماریشس نے اقوام متحدہ کی کمیشن برائے حدود کنٹینینٹل شیلف (UN CLCS) میں مشترکہ درخواست کے ذریعے اضافی 396,000 مربع کلومیٹر حاصل کیا۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ساتھ مشترکہ سروے نے ماہی گیری کے زونز سے متعلق ابہام کو کم کیا، جس سے غیر ارادی سرحدی تنازعات سے بچاؤ ہوا اور دو طرفہ اعتماد بڑھا۔ یہ اقدامات بھارت کے پرامن بقائے باہمی کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔
میٹریورولوجیکل ڈپلومیسی: موسمیاتی آفات سے تحفظ
ہائیڈروگرافک کوششوں کے ساتھ ساتھ، بھارت نے موسمیاتی اور سمندری تحقیق کی صلاحیتوں کو تیزی سے ترقی دی ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں سے چلنے والی آفات کے دور میں اہم ہیں۔ بھارت کی میٹریورولوجیکل ڈپلومیسی خطے کے ممالک کو موسمی پیشگوئی اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، بھارت نے عمان، کینیا، موزمبیق، اور تنزانیہ کے ساتھ تعاون کیا ہے تاکہ ان کے سمندری زونز کے آزادانہ اور پائیدار انتظام کو ممکن بنایا جا سکے۔ یہ اقدامات نہ صرف معاشی اور ماحولیاتی سلامتی کو بڑھاتے ہیں بلکہ دیرپا سفارتی اعتماد بھی قائم کرتے ہیں۔ بھارت کی یہ کوششیں خطے میں موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں۔
ملٹریل فورمز کے ذریعے تعاون
بھارت بحر ہند رِم ایسوسی ایشن (IORA) اور انڈین اوشین نیول سمپوزیم (IONS) جیسے ملٹریل فورمز کا فعال استعمال کرتا ہے۔ 2025 میں ان فورمز کی صدارت کرتے ہوئے، بھارت نے اشتراکی سمندری گورننس کو فروغ دیا اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف 14 (زیر آب زندگی) کے ساتھ ہم آہنگی کی۔ کھلے ہائیڈروگرافک ڈیٹا شیئرنگ پلیٹ فارمز کی وکالت سے ماحولیاتی اور سمندری وسائل کے انتظام میں خطے کی صلاحیتوں کو تقویت ملی ہے۔ انفارمیشن فیوژن سینٹر—بحر ہند علاقہ (IFC-IOR) جیسے اقدامات سمندری نگرانی کو بہتر بناتے ہیں، جس سے قزاقی، منشیات کی اسمگلنگ، اور غیر قانونی ماہی گیری کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ اقدامات بھارت کی خطے میں ایک تعمیری رہنما کے کردار کو مضبوط کرتے ہیں۔
معاشی اور ماحولیاتی فوائد
بھارت کا ہائیڈروگرافک اور میٹریورولوجیکل کام خطے کے ممالک کے لیے معاشی فوائد لاتا ہے۔ یہ سروے سمندری وسائل جیسے ہائیڈرو کاربن اور معدنیات تک رسائی اور ماہی گیری کے پائیدار انتظام کو ممکن بناتے ہیں، جو جزائری معیشتوں کے لیے اہم ہیں۔ بھارت کی شفافیت، تربیت، اور صلاحیت سازی پر مبنی سمندری ڈپلومیسی خطے میں جبری حکمت عملیوں کے مقابلے میں ایک مثبت متبادل پیش کرتی ہے۔ یہ نقطہ نظر نہ صرف خطے کے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے بلکہ ان کی طویل مدتی امنگوں کو بھی پورا کرتا ہے، جو ایک قابل اعتماد شراکت دار کی تلاش میں ہیں۔
چیلنجز اور مستقبل کی راہ
چین کی بحر ہند میں بڑھتی ہوئی موجودگی، جیسے کہ جبوتی میں اس کا فوجی اڈہ اور سری لنکا میں ہیمبن ٹوٹا بندرگاہ، بھارت کے لیے جغرافیائی سیاسی چیلنجز پیش کرتی ہے۔ بھارت کو اپنی سمندری صلاحیتوں کو مزید بڑھانے، ساحلی ریڈار نیٹ ورک کو وسعت دینے، اور جدید سیٹلائٹ نگرانی کے نظام کو مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، ملدیپ جیسے پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور ہائیڈروگرافک معاہدوں کی تجدید نہ ہونے جیسے مسائل علاقائی قیادت کے لیے چیلنجز ہیں۔ بھارت کو اپنی سمندری ڈپلومیسی کو جاری رکھتے ہوئے سٹریٹجک سرمایہ کاری، نجی دفاعی شعبے کے ساتھ ہم آہنگی، اور مغربی افریقی ساحلی ممالک کے ساتھ تعاون کو بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ کوششیں بھارت کو بحر ہند کے علاقے میں ایک مضبوط اور قابل اعتماد رہنما کے طور پر قائم رکھیں گی۔
بھارت ایکسپریس۔
ایشین گیمز میں ایشا کا یہ تیسرا سلور میڈل ہے۔ اس سے قبل انہوں نے…
ضلع اسپتال کی اینٹی ریبیز ویکسین او پی ڈی کے انچارج ڈاکٹر موہت بنسل نے…
سمستی پور: بہار کے سمستی پور ضلع کے محی الدین نگر میں ایک انتہائی نایاب…
ارون راج نے کہا کہ جب اسکیم کے آغاز کے لیے جگہ کا انتخاب کرنے…
سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل دور میں ہندوستانی زبانوں کا…
کوریا کی سیونگ سویون کو 5-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں داخل ہونے…