بھارت کی راجدھانی آج ایک نہایت اہم سفارتی تبدیلی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات کو صرف رسمی نشست نہیں بلکہ ایشیا میں طاقت کے توازن کو بدلنے والے ایک “گیم چینجر” قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انڈو پیسیفک خطے میں بڑھتے تناؤ اور تکنیکی مسابقت کے درمیان دونوں جمہوری ممالک کا قریب آنا مخالفین کے لیے بڑے جھٹکے سے کم نہیں سمجھا جا رہا۔
تکنیکی سپر پاور بننے کی جانب قدم
اس اہم ملاقات کا سب سے بڑا اور اہم ایجنڈا ’ہائی ٹیک سیکٹر‘ ہے۔ جنوبی کوریا کی تکنیکی قیادت اور بھارت کے ’میک اِن انڈیا‘ وژن کو جوڑتے ہوئے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور نئی ٹیکنالوجی پر بڑے معاہدوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ بھارت کے لیے یہ تکنیکی خود انحصاری کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہوگی، جو اسے عالمی سپلائی چین میں چین کے ایک مضبوط متبادل کے طور پر قائم کر سکتی ہے۔
دفاع اور شپ بلڈنگ پر بڑا داؤ
اسٹریٹجک محاذ پر بھی یہ ملاقات کافی اہم مانی جا رہی ہے۔ دفاعی تعاون اور شپ بلڈنگ میں شراکت داری بڑھا کر بھارت اور جنوبی کوریا سمندری سلامتی کو نئی سطح پر لے جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انڈو پیسیفک خطے میں امن اور استحکام کے لیے دونوں ممالک کا یہ اتحاد خطے میں دباؤ بنانے والی طاقتوں کے لیے سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے۔ صدر لی نے بھی بھارت کو ایک قابلِ اعتماد جمہوری شراکت دار قرار دیتے ہوئے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کی بات کہی۔
راشٹرپتی بھون میں سرکاری استقبال
جنوبی کوریا کے صدر لی کا یہ پہلا سرکاری دورۂ بھارت ہے، جس کا آغاز راشٹرپتی بھون میں شاندار سرکاری استقبال کے ساتھ ہوا۔ وزیراعظم مودی کے ساتھ تفصیلی بات چیت کے بعد صدر دروپدی مرمو ان کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ دیں گی۔ یہ سفارتی گرمجوشی اس بات کی علامت ہے کہ بھارت اور جنوبی کوریا کے تعلقات اب صرف تجارت تک محدود نہیں رہے بلکہ گہری اسٹریٹجک اور ثقافتی شراکت داری میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں یکم اکتوبر کو نئی دہلی میں دونوں…
ملک کے کئی حصوں میں مانسون کی واپسی کے درمیان موسم میں تبدیلی کا سلسلہ…
ٹی وی کے معروف ریئلٹی شو ’رائز اینڈ فال 2‘ میں پرینکا چاہر چودھری اور…
ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ون ڈے میں روہت شرما نے شاندار بلے بازی کرتے…
افغانستان میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ جمعرات کی صبح…
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ-1073 میں 30 ہزار فٹ…