قومی

India-Russia Oil Imports Modi Govt.: تیل کے معاملے میں جھکنے کے موڈ میں نہیں مودی حکومت، روس سے بھرپور خرید رہی ہے تیل، پست ہو رہے ہیں ٹرمپ کے حوصلے

امریکہ کی جانب سے روس سے تیل خریدنے پر دی گئی چھوٹ کی مدت ختم ہونے کے باوجود بھارت نے روسی خام تیل کی خرید جاری رکھی ہے۔ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک کی تیل خرید پالیسی کسی امریکی رعایت پر مبنی نہیں بلکہ مکمل طور پر تجارتی ضروریات اور بازار کی صورتحال کے مطابق طے کی جاتی ہے۔پٹرولیم وزارت کی جوائنٹ سیکریٹری سجاتا شرما نے پیر کو میڈیا بریفنگ میں کہا کہ روس سے خام تیل کی خرید پہلے بھی جاری تھی، چھوٹ کے دوران بھی جاری رہی اور اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ریفائنریوں کو فی الحال کسی قسم کی سپلائی سے متعلق مشکل کا سامنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا،’’ہمارے لیے تیل خریدنے کا فیصلہ مکمل طور پر تجارتی سمجھ اور بازار میں دستیابی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ مارکیٹ میں خام تیل کی کوئی کمی نہیں ہے اور مناسب مقدار میں سپلائی یقینی بنائی جا چکی ہے۔ اس لیے امریکی چھوٹ ہو یا نہ ہو، اس کا بھارت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘‘

امریکہ نے 16 مئی تک دی تھی چھوٹ

دراصل امریکہ نے مارچ میں کچھ روسی تیل کارگو کے لین دین کے لیے محدود چھوٹ دی تھی، جس کی مدت بعد میں بڑھا کر 16 مئی تک کر دی گئی تھی۔ یہ رعایت ان روسی تیل کی کھیپوں پر لاگو تھی جو پہلے ہی ٹینکروں پر لوڈ ہو چکی تھیں۔ تاہم اب اس کی مدت ختم ہو چکی ہے۔اگرچہ روسی خام تیل پر مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی، لیکن روس-یوکرین جنگ کے بعد امریکہ مسلسل بھارت سمیت کئی ممالک سے ماسکو سے تیل خرید کم کرنے کی اپیل کرتا رہا ہے۔ اس کے باوجود بھارت نے رعایتی نرخوں پر دستیاب روسی تیل کو اپنی توانائی ضروریات کے لیے ایک اہم ذریعہ بنائے رکھا ہے۔

بھارتی ریفائنریاں تیار

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریفائنریاں موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ گھریلو طلب میں ہلکی کمی اور امریکہ، یو اے ای، عمان اور عراق سے متبادل کارگو کی دستیابی کے باعث سپلائی پر کسی بڑے اثر کا امکان نہیں ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپاٹ مارکیٹ میں چین کی محدود سرگرمی کی وجہ سے بھی مارکیٹ میں مناسب سپلائی برقرار ہے۔ دوسری جانب ریلائنس انڈسٹریز اور نایارا انرجی کی کچھ ریفائنریوں میں مینٹیننس کام کے باعث نجی شعبے کی خرید میں بھی کمی آئی ہے۔روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے سبب عالمی تیل تجارت کا توازن بدل گیا اور رعایتی روسی تیل بھارت کے لیے ایک بڑا متبادل بن کر سامنے آیا۔ اعداد و شمار کے مطابق مئی میں بھارت کی روسی تیل درآمد تقریباً 19 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ سکتی ہے، جو ریکارڈ سطح کے کافی قریب مانی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Construction & Demolition Work Ban: دہلی-این سی آر میں 5 سے 20 نومبر تک تعمیراتی اور انہدامی کاموں پر پابندی، جانیے کیا ہے وجہ

مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو نے آلودگی پر قابو پانے کے لیے دہلی سمیت پورے…

5 minutes ago

PM Modi will visit Brussels: دسمبر میں برسلز جاکر بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے پر دستخط کریں گے وزیراعظم مودی

معاہدے سے 2 ارب سے زیادہ لوگوں پر مشتمل وسیع بازار تشکیل پانے کی امید،…

22 minutes ago

PM Modi Releases 24th PM Kisan Installment: وزیر اعظم مودی نے پی ایم کسان کی 24ویں قسط جاری کی، 9.34 کروڑ کسان خاندانوں کو ملے 18,680 کروڑ روپے

گجرات کے بھلڈی سے ملک بھر کے مستحق کسانوں کے کھاتوں میں رقم براہِ راست…

57 minutes ago

Joshimath Helicopter Crash: بدری ناتھ دھام سے واپسی پرہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، 6 افراد ہلاک

جس وقت ہیلی کاپٹر بدری ناتھ سے واپس آ رہا تھا، اس دوران علاقے میں…

1 hour ago