قومی

India responds to Trump’s threat: روس سے تیل کی درآمد پر ٹرمپ کی دھمکی کا ہندوستان نے دیا جواب،کہا ہم اپنے پرانے موقف پر قائم رہیں گے

مرکزی پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ ہندوستان نے عالمی منڈی میں تیل خریدنے کے اپنے ذرائع کو متنوع بنایا ہے، اس لیے حکومت روس کی تیل کی برآمدات پر کسی امریکی کارروائی سے پریشان نہیں ہے۔ انرجی ڈائیلاگ 2025 میں مرکزی وزیر پوری نے کہا کہ ہندوستان اس وقت 40 ممالک سے تیل خریدتا ہے، جب کہ 2007 میں یہ تعداد 27 تھی اور عالمی منڈی میں اس کی مناسب سپلائی ہے۔مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہاکہ مارکیٹ میں بہت زیادہ تیل دستیاب ہے۔ ایران اور وینزویلا پر اس وقت پابندیاں ہیں۔ لیکن کیا وہ ہمیشہ پابندیوں میں رہیں گے؟ برازیل، کینیڈا سمیت کئی دوسرے ممالک پیداوار بڑھا رہے ہیں۔ میں فی الحال سپلائی کو لے کر غیر ضروری طور پر پریشان نہیں ہوں۔ ہم نے اپنے ذرائع کو متنوع بنایا ہے۔یا د رہے کہ روس سے تیل کی درآمد پر ٹرمپ نے ہندوستان اور چین کو دھمکی دی ہے۔

مرکزی وزیر کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ثانوی پابندیوں کے اعلان کے بعد آیا ہے۔ منگل (15 جولائی) کو ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر 50 دنوں کے اندر یوکرین کے ساتھ امن معاہدہ نہ ہوا تو روس پر سخت تجارتی پابندیاں عائد کر دیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ روسی برآمدات پر امریکی محصولات کو 100 فیصد تک بڑھا دیا جائے گا۔ انہوں نے روس سے تیل خریدنے والے بھارت اور چین جیسے ممالک پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دی۔

بھارت نے تیل کی قیمتوں کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا – پوری

ٹرمپ کی دھمکیوں پر مرکزی وزیر پوری نے کہاکہ میں نے یہ دھمکیاں سنی ہیں۔ دو متنازعہ فریقوں کے درمیان کسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ بیانات دیے جاتے ہیں۔ ماسکو سے ہندوستان کی تیل کی خریداری نے عالمی منڈی میں قیمتوں کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب 2022 میں یوکرین کی جنگ شروع ہوئی تو خام تیل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی تھیں۔جنگ کے دوران بھارت ماسکو سے صرف 0.2 فیصد خام تیل خریدتا تھا آج یہ تقریباً 40 فیصد ہے۔

مرکزی وزیر نے کہاکہ روسی خام تیل کی قیمت ہمیشہ 60 ڈالرفی بیرل کی حد کے اندر رہی ہے، لیکن اس پر کبھی پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔ ہندوستان پابندیوں کے تحت کسی بھی ملک سے خام تیل نہ خریدنے کے اپنے موقف پر قائم ہے۔یاد رہے کہ  مرکزی وزیر پوری نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھاکہ روس دنیا کے سب سے بڑے خام تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے جس کی یومیہ پیداوار 9 ملین بیرل سے زیادہ ہے۔ ذرا تصور کریں کہ کیا ہوتا اگر یہ تیل، جو تقریباً 97 ملین بیرل کی عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 10 فیصد ہے، مارکیٹ سے غائب ہو جاتا۔ اس سے دنیا مجبور ہو جاتی کہ اس کی قیمتیں کم ہو جائیں اور صارفین کو اس کی قیمتیں کم کرنا پڑیں گی۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

37 minutes ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

1 hour ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

2 hours ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

3 hours ago