قومی

India Worlds 3rd Largest Consumer Market : بھارت 2026 تک دنیا کا تیسرا سب سے بڑا کنزیومر مارکٹ بننے کی راہ پر: رپورٹ

نئی دہلی: بین الاقوامی مالیاتی ادارے یو بی ایس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، بھارت عالمی معیشت میں تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو بھارت 2026 تک دنیا کی تیسری سب سے بڑی کنزیومر(صارف) مارکٹ اور 2028 تک تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت کا گھریلو صارف خرچ گزشتہ ایک دہائی میں دوگنا ہو چکا ہے اور 2024 میں یہ 2.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ اوسطاً 7.9 فیصد سالانہ شرح نمو کے ساتھ درج کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ”ہمارا اندازہ ہے کہ بھارت 2026 تک عالمی سطح پر تیسرا سب سے بڑا کنزیومر(صارف) مارکٹ بن جائے گا“۔

یو بی ایس کے تجزیے کے مطابق، بھارت کی حقیقی جی ڈی پی میں مسلسل مضبوطی برقرار ہے۔ مالی سال 2027 میں شرح نمو 6.4 فیصد اور مالی سال 2028 میں 6.5 فیصد رہنے کی امید ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ مستحکم پالیسیوں، مضبوط گھریلو مانگ اور سرمایہ کاری کے ماحول کے باعث بھارت ایشیا پیسفک خطے میں تیزی سے بڑھنے والی معیشت بن کر ابھرے گا۔ بھارت کے بعد فلپائن (6.1%) اور انڈونیشیا (5.1%) کا نمبر ہوگا۔ اس کے برعکس، دیگر بڑی معیشتوں کی رفتار نسبتاً سست رہنے کا امکان ہے۔ امریکہ کی جی ڈی پی ترقی کی شرح 2025 میں 1.9 فیصد سے گھٹ کر 2026 میں 1.7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، تاہم 2027 میں معمولی بہتری کے ساتھ یہ دوبارہ 1.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اسی طرح چین کی حقیقی جی ڈی پی شرح 2025 کے 4.9 فیصد سے گھٹ کر 2026 میں 4.5 فیصد رہ سکتی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارت کی تیز رفتاری کو کچھ بیرونی خطرات لاحق ہیں، خاص طور پر امریکی تجارتی پالیسیوں سے جڑے غیر یقینی حالات کی وجہ سے۔ یو بی ایس نے کہا کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے 50 فیصد تجارتی ٹیرف برقرار رہتا ہے تو بھارت کی جی ڈی پی نمو مالی سال 2027 میں 50 بیسس پوائنٹ (0.5%) تک متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے اثرات روزگار، صارف اخراجات، کاروباری اعتماد اور سرمایہ کاری پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ دوسرا خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب امریکہ غیر ملکی آؤٹ سورسنگ خدمات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرتا ہے، جس سے بھارت کی معیشت پر تقریباً 90 بیسس پوائنٹ (0.9%) تک منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

یو بی ایس کا اندازہ ہے کہ ملک کا مرکزی بینک ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) معاشی نمو کو سہارا دینے کے لیے موجودہ مالی سال میں شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹ کی مزید کمی کر سکتا ہے۔ رپورٹ کا نتیجہ یہ بتاتا ہے کہ اگر پالیسی استحکام اور سرمایہ کاری کے مواقع برقرار رہے تو بھارت نہ صرف ایشیائی بلکہ عالمی سطح پر ایک فیصلہ کن معاشی قوت کے طور پر ابھرے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Guru Tegh Bahadur: دہلی میں امر بلیدان، موسیقی اور تھیٹر کے ذریعے گرو تیغ بہادر جی کی عظیم قربانی کو کیا گیا پیش

تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے سیوا یاترا میں شامل نوجوانوں سے کی بات چیت ، کہا- یہ تجربات انمول ہیں

پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…

3 hours ago

Utter Pradesh International Trade Showگریٹر نوئیڈا میں میگا ٹریڈ شو، دنیا بھر کے تاجروں کا اجتماع، امت شاہ آج کریں گے شاندار افتتاح

گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…

4 hours ago

DU Financial Support Scheme: دہلی یونیورسٹی کا 100 فیصد فیس معافی کا اعلان، درخواست کے لیے یہ دستاویزات ضروری

دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…

4 hours ago

Uproar over CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار پر ہنگامہ، پروگرام ملتوی، کانگریس کا احتجاج، مہوا موئترا نے تھانے میں درج کرائی شکایت

کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…

5 hours ago