قومی

India OUT to India IN in Maldives: مالدیپ میں ’’ انڈیا آؤٹ ‘‘سے’’  انڈیا اِن ‘‘ تک: صدر معزو نے کی وزیراعظم مودی کی تعریف ، چین کے بدل گئے تیور

مالے (مالدیپ) – وزیر اعظم نریندر مودی کا دو روزہ مالدیپ دورہ نہ صرف سفارتی بلکہ جغرافیائی سیاست کے لحاظ سے بھی انتہائی اہم رہا۔ مودی کو مالدیپ کے آزادی کے 60 ویں جشن میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا اور ان کے ساتھ صدر محمد معزو نے ملک کے اہم مقامات پر مشترکہ تقاریب میں شرکت کی۔

4800 کروڑ کی مدد اور ایف ٹی اے پر اتفاق

اس دورے کے دوران ہندوستان نے مالدیپ کو 565 ملین ڈالر (تقریباً 4800 کروڑ روپے) کی نئی لائن آف کریڈٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا، جس کا استعمال بنیادی ڈھانچے، اسپتالوں، اسکولوں اور ہاؤسنگ جیسے منصوبوں میں کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (FTA) پر بات چیت شروع کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی۔ صدر محمد معزو، جنہوں نے اپنے انتخابی مہم میں ’’ انڈیا آؤٹ ‘‘ کا نعرہ دیا تھا، اب بھارت کو ’’سب سے قابلِ اعتماد ساتھی‘‘ اور ’’فرسٹ ریسپانڈر‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کی مالدیپ آمد کو ایک ’’تاریخی موقع‘‘ بتایا اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا عزم ظاہر کیا۔

معزو کے موقف میں یوٹرن، چین ناراض

صدر معزو، جو کبھی بھارت سے فوجی دستے واپس بلوانے کے لیے جانے جاتے تھے، اب نہ صرف بھارتی سرمایہ کاری بلکہ بھارت کے ساتھ سیاحتی، تجارتی اور سفارتی تعلقات کو فروغ دینے کی وکالت کر رہے ہیں۔ ان کے اس بدلے ہوئے رویے سے چین خاصا ناراض نظر آ رہا ہے۔ چینی سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ نے بھارتی میڈیا کی کوریج پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مالدیپ میں چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کے تشنگوا یونیورسٹی سے وابستہ ماہر کیان فینگ نے اسے زیرو-سم گیم کی ذہنیت قرار دیا ہے۔

چین کی پرانی یاد دہانی، مگر زمینی حقیقت بدل رہی ہے

چین نے یاد دلایا کہ جنوری میں معزو نے بیجنگ کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے چین کو مالدیپ کا قریبی ترین دوست کہا تھا اور عالمی انصاف کے لیے چین کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ مگر حالیہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ معزو اب خارجہ پالیسی میں توازن کی طرف بڑھ رہے ہیں اور بھارت کے ساتھ رشتوں کو دوبارہ اولین ترجیح دے رہے ہیں۔

ہندوستان-مالدیپ تعلقات میں نئے باب کا آغاز

مودی کا یہ دورہ نہ صرف ہندوستان-مالدیپ تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہے، بلکہ یہ ہند بحرالکاہلی خطے میں چین کے بڑھتے اثر کو روکنے کی بھارت کی اسٹریٹجک کوشش کا حصہ بھی ہے۔ معیظو کی سیاست میں بدلاؤ اور بھارت کی معاشی و دفاعی قربت اس خطے میں بڑی تبدیلیوں کا اشارہ دے رہی ہے۔ بھارت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مالدیپ جیسے ہمسایہ ممالک میں اعتماد اور تعاون کے ساتھ اپنی موجودگی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، اور اس مرتبہ، مالدیپ کی قیادت بھی اسی سمت بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Dharavi Redevelopment: دھاراوی کے دن بدلنے کی امید! ماٹونگا میں نئے بازآبادکاری مکانات کا سنگ بنیاد، اڈانی گروپ نے بڑے پروجیکٹ کا کیا آغاز

ممبئی کے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ نے ایک اہم مرحلہ طے کرلیا ہے۔ ماٹونگا میں…

15 minutes ago

SIR Punjab-13 Lakh Names Deleted: پنجاب میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے بعد 13 لاکھ سے زائد نام خارج، حتمی فہرست جاری

تقریباً 7.97 لاکھ نئے ووٹر شامل، حتمی فہرست میں 2.01 کروڑ سے زیادہ ووٹر درج،…

1 hour ago

Girls Trafficking Arrest: کیسینو میں ملازمت کا جھانسہ، موبائل میں فحش تصاویر… نیپال سرحد پر میزورم کی دو لڑکیوں کے ساتھ بڑا حادثہ ٹلا

مغربی بنگال کے پانی ٹنکی میں بھارت-نیپال سرحد پر انسانی اسمگلنگ کے ایک معاملے میں…

2 hours ago