قومی

India on High Alert: علی خامنہ ای کی موت کے بعد بھارت میں ہائی الرٹ، قانون کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ

نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھارت میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ مرکزی وزارتِ داخلہ اور سکیورٹی ایجنسیوں نے تمام ریاستوں کو مشتبہ عناصر پر کڑی نظر رکھنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس فورس تعینات کرنے کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ ملک میں امن و سکون قائم رہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں ان کی حمایت میں مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ بعض عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے افواہیں پھیلانے اور ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے انتباہ

ریاستی پولیس اور انتظامیہ نے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا اشتعال انگیز، قابلِ اعتراض یا گمراہ کن مواد پوسٹ، شیئر یا فارورڈ کرنے سے گریز کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ افواہیں اور جھوٹے پیغامات حالات کو بگاڑ سکتے ہیں اور قانون و انتظام کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔

قانونی طریقے سے کو ہے اظہارِ رائے کا حق

پولیس حکام نے واضح کیا کہ پرامن اور قانونی طریقے سے اظہارِ رائے کا حق سب کو حاصل ہے، لیکن تشدد، سرکاری یا عوامی املاک کو نقصان پہنچانا اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایسی سرگرمیوں سے جان و مال کا نقصان ہوتا ہے اور عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد، اشتعال دلانے والوں اور شرپسند عناصر کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

عوام سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل

اسی تناظر میں ضلع باندی پورہ میں بھی موجودہ حالات کے پیش نظر مقامی پولیس نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔ پولیس انتظامیہ نے کہا ہے کہ علاقے میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لئے شہری کسی بھی ایسی سرگرمی سے دور رہیں جس سے عوامی سکون میں خلل پڑنے کا خدشہ ہو۔

پولیس کی جانب سے جاری اپیل میں کہا گیا ہے کہ لوگ توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی، پتھراؤ یا کسی بھی قسم کی بدامنی کا حصہ نہ بنیں۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف قانون کے خلاف ہیں بلکہ عام شہریوں، تاجروں، طلبہ اور یومیہ مزدوروں کے لیے بھی شدید مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ تشدد اور بے چینی کے نتیجے میں تعلیمی اداروں کی بندش، آمدورفت میں رکاوٹ اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

7 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

8 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

8 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

9 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

10 hours ago