ممبئی: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سمندری راستوں پر جاری خطرات کے درمیان بھارت کے لیے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب سے خام تیل لے کر آنے والا بھارتی ٹینکر ”شین لونگ“ خطرناک سمندری راستہ عبور کرتے ہوئے بحفاظت ممبئی بندرگاہ پہنچ گیا ہے۔ اس پیش رفت کو بھارت کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث دنیا بھر کے تیل بردار جہاز شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر ایک حساس اور خطرناک سمندری راستہ بنا دیا ہے۔ کئی ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، جس کے بعد عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ ایسے حالات میں بھارتی ٹینکر کا اس راستے سے محفوظ گزر کر ممبئی پہنچ جانا ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت کی اہم سفارتی کامیابی
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت بھارت کی متوازن خارجہ پالیسی اور فعال سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے 10 مارچ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر تفصیلی بات چیت کی تھی۔ اس گفتگو میں خطے کی سلامتی، توانائی سپلائی اور بھارتی مفادات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایران نے پہلے واضح کیا تھا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اس صورتحال میں بھارتی ٹینکر کے لیے راستہ بنانا آسان نہیں تھا، لیکن سفارتی سطح پر ہونے والی بات چیت کے بعد ایران نے بھارتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے نرم موقف اختیار کیا۔ اسی کے نتیجے میں بھارتی ٹینکر ”شین لونگ“ اس خطرناک سمندری علاقے سے بحفاظت گزرنے میں کامیاب رہا۔
ممکنہ خفیہ مفاہمت کی قیاس آرائیاں
اس واقعے کے بعد سیاسی اور سفارتی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ شاید بھارت اور ایران کے درمیان کسی سطح پر خفیہ مفاہمت یا خصوصی یقین دہانی ہوئی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے اپنی روایتی پالیسی ”اسٹریٹجک خود مختاری“ کو برقرار رکھتے ہوئے دونوں فریقوں کے ساتھ توازن قائم رکھا ہے۔
کب ممبئی پہنچا تیل بردار جہاز
اطلاعات کے مطابق ”شین لونگ“ نامی یہ ٹینکر تقریباً ایک لاکھ پینتیس ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر ممبئی بندرگاہ پہنچا ہے۔ اس جہاز کی محفوظ آمد نے نہ صرف بھارت کی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو کم کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام دیا ہے کہ کشیدہ حالات کے باوجود سفارت کاری کے ذریعے راستے نکالے جا سکتے ہیں۔
اب بھی کئی بھارتی جہاز خطرے میں
اگرچہ اس کامیابی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، لیکن صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی ہے۔ شِپنگ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق بھارتی پرچم بردار تقریباً 28 جہاز اب بھی اس جنگی خطے کے قریب موجود ہیں۔ حکومت اور وزارت خارجہ ان جہازوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارت اپنی فعال سفارت کاری کے ذریعے ”دیش مہما“، ”سورن کمل“ اور ”وشوا پریرنا“ سمیت کئی جہازوں کو پہلے ہی عرب سمندر کے محفوظ علاقوں تک منتقل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر اس سلسلے میں جرمنی اور جنوبی کوریا کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تاکہ عالمی توانائی سپلائی کے نظام میں رکاوٹ نہ آئے اور بھارتی مفادات محفوظ رہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں بھارت کی سفارتی حکمت عملی نہ صرف اس کے توانائی مفادات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں سیمسنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس…
پولیس نے اس معاملے میں 2 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ دونوں سے پوچھ…
ایشین گیمز 2026 کے دوسرے دن ہندوستان نے دو تمغے اپنے نام کیے تھے۔ 10…
دوسری جانب سری لنکا نے سیمی فائنل میں پاکستان کو 8 وکٹ سے شکست دے…
فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…
بتایا جا رہا ہے کہ آئی آئی ٹی ممبئی کیمپس میں گزشتہ تقریباً 7 ماہ…