قومی

Amit Shah’s statement on infiltration and terrorism:’بھارت کوئی دھرم شالہ نہیں،ہرحال میں…‘،دراندازوں اوردہشت گردی کے معاملے پرامت شاہ کا سخت حملہ

نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر امت شاہ نے نئی دہلی میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی جانب سے منعقدہ دو روزہ ’نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی کانفرنس 2026‘ کے نویں ایڈیشن کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی داخلی سلامتی کے حوالے سے سخت پیغام دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ بھارت کوئی ’دھرم شالہ‘ نہیں ہے اور یہاں صرف ملک کے قانونی شہریوں کو رہنے کا حق ہے۔ امت شاہ نے ریاستی حکومتوں اور سکیورٹی ایجنسیوں سے کہا کہ دراندازی اور دہشت گردی کے پورے نظام کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر جو ملک کی سلامتی، معیشت اور آبادیاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں۔

’بھارت دھرم شالہ نہیں، دراندازی سے کوئی سمجھوتہ نہیں‘

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر امت شاہ نے دراندازی کے مسئلے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ریاستوں سے غیر قانونی دراندازوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سرحدی سلامتی اور داخلی امن کے ساتھ کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ امت شاہ نے کہا کہ بھارت کوئی دھرم شالہ نہیں ہے اور یہاں صرف ملک کے شہریوں کو رہنے کا حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق دراندازی ملک کی سلامتی، معیشت اور آبادیاتی توازن کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کا مقصد جلد از جلد پورے ملک کو ’دراندازوں سے پاک‘ بنانا ہے۔

’PRAHAAR‘ کے ذریعے دہشت گردی کو کچلنے کا عزم

امت شاہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’وکست بھارت 2047‘ کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت تیزی سے اس ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ بھارت کے لیے سب سے پہلی اور اہم شرط مضبوط داخلی سلامتی ہے۔ انہوں نے ریاستوں کو دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی اور حکمت عملی ’PRAHAAR‘ کو مؤثر اور جارحانہ انداز میں نافذ کرنے کی ہدایت دی۔ سکیورٹی ایجنسیوں سے کہا گیا کہ دہشت گردی کے پورے نظام، اس کے مالیاتی نیٹ ورک اور مددگاروں کے خلاف ایسی فیصلہ کن کارروائی کی جائے کہ وہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں۔

اگلے 20 برسوں کے خطرات کا ابھی سے اندازہ لگائیں

دو روزہ کانفرنس میں دہشت گردی، دراندازی، منشیات کی اسمگلنگ، سائبر سکیورٹی اور ابھرتے ہوئے تکنیکی چیلنجز سمیت قومی سلامتی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ امت شاہ نے سکیورٹی حکام سے کہا کہ انہیں صرف موجودہ مسائل تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اگلے 15 سے 20 برسوں میں سامنے آنے والے ممکنہ قومی سلامتی کے چیلنجز کا ابھی سے اندازہ لگانا ہوگا۔ انہوں نے سکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی تیار کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کو ہر خطرے سے اس وقت نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا جب وہ مسئلہ بننے کے ابتدائی مرحلے میں ہو، تاکہ اسے جڑ سے ختم کیا جاسکے۔ امت شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کے خلاف کارروائی صرف ردعمل تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ سکیورٹی نظام کو مستقبل کے خطرات کی پیش گوئی اور ان کی روک تھام پر بھی توجہ دینی ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Sara Tendulkar: سارہ تندولکر کا دلکش انداز، بھابھی کے ساتھ دیے پوز، مداحوں کو گنیش چترتھی کی مبارکباد

سارہ تندولکر نے منگل کی صبح انسٹاگرام پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ ان میں…

35 minutes ago

Maulana Arshad Madani on UCC: یو سی سی پر مولانا ارشد مدنی نے اٹھائے سوال، کہا- ملک آئین سے چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے سے؟

مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…

2 hours ago

UPI Charge Rule: یو پی آئی کے نئے قواعد، کس سے، کب، کتنا اور کہاں وصول کیا جائے گا چارج؟

حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…

2 hours ago