دنیا کی معروف کمپنی ایسٹی لاڈر کے صدر و سی ای او اسٹفین ڈی لا فیوری نے ہندوستان کے دورے کے دوران کہا ہے کہ بھارت کمپنی کے لیے ایک “انتہائی اسٹریٹیجک” مارکیٹ بن چکا ہے، اور یہاں کی درمیانی طبقے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قوتِ خرید، ڈیجیٹل ترقی اور صارفین کے رویے میں تبدیلیاں عالمی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
ایسٹی لاڈر، جو کہ La Mer، Tom Ford، Jo Malone، Estée Lauder، Le Labo جیسے عالمی برانڈز کی مالک ہے، چین میں سست فروخت اور مارکیٹ شیئر میں کمی کے تناظر میں عالمی سطح پر اپنی حکمتِ عملی کا ازسر نو جائزہ لے رہی ہے۔ ڈی لا فیوری، جنہوں نے جنوری 2025 میں سی ای او کا عہدہ سنبھالا، “بیوٹی ری امیجنڈ” نامی ایک نئی حکمتِ عملی کے تحت کمپنی کو دوبارہ مستحکم بنانے کے مشن پر ہیں۔
انھوں نے Business Today کو انٹرویو میں بتایا، “ہم بھارت میں گزشتہ 20 برسوں سے موجود ہیں، اور اب یہاں کے متوسط طبقے کی ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن نے مارکیٹ کو کئی گنا وسعت دے دی ہے۔ ہم Nykaa اور Tira جیسے ریٹیل پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، اور ہمارا مقصد ہے کہ ہر شہر میں پرتعیش اشیاء کے شعبے میں رہنما بنیں۔”
ڈی لا فیوری کے مطابق، بھارت میں بیوٹی پروڈکٹ کے شعبے کی ترقی تیزی سے ہو رہی ہے، اور Forest Essentials جیسے دیسی برانڈز میں سرمایہ کاری اب عالمی سطح پر ان کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کمپنی نئی مصنوعات کے لانچ کے وقت کو تیز کر رہی ہے۔ “ہم نے Nykaa کے ساتھ مل کر Wedding Party Collection کے تحت بھارت میں پہلی بار تیار کردہ لپ اسٹک لانچ کی، جسے صرف آٹھ ماہ میں مارکیٹ میں لایا گیا، جب کہ پہلے اس میں سال بھر لگتا تھا۔”
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایسٹی لاڈر نے Microsoft کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ ConsumerIQ اور Trend Studio جیسے جنریٹیو AI ٹولز کے ذریعے صارفین کی ترجیحات کو سمجھ کر بہتر مصنوعات تیز رفتاری سے تیار کی جا سکیں۔
ڈی لا فیوری کا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں ہر بڑی کمپنی کو ایک اسٹارٹ اپ کی طرح سوچنا ہوگا۔ “ہماری بنیاد ایک خاتون نے رکھی تھی جو دروازے دروازے جا کر مصنوعات فروخت کرتی تھیں۔ آج بھی ہم اسی جذبے کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ رسک لینا کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے۔”
کمپنی کی New Incubation Ventures کے تحت مختلف ملکوں میں چھوٹے لیکن ابھرتے برانڈز میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جیسا کہ Forest Essentials اور DECIEM جیسے برانڈز، جنہوں نے بعد میں عالمی شہرت حاصل کی۔
ڈی لا فیوری نے زور دیا کہ ایسٹی لاڈر کا فوکس اب مکمل طور پر صارفین پر ہے — “یہ آج ایک دو طرفہ گفتگو بن چکی ہے، جہاں ہم صرف بولتے نہیں، بلکہ سنتے بھی ہیں۔”
بھارت ایکسپریس اردو۔
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…