نئی دہلی: وزارت خارجہ نے جمعہ کو کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کے رجحان کے عین مطابق ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا: ’’کل ہم نے اس بارے میں ایک پریس ریلیز جاری کی تھی اور اس کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ اس سمت میں تجارتی سرگرمی بھی شروع ہو گئی ہے۔ یہ سب کچھ بھارت اور چین کے تعلقات کے تدریجی معمول پر آنے کے رجحان کے مطابق ہے۔‘‘
اکتوبر کے آخر تک پروازوں کی بحالی کا امکان
وزارت کے مطابق دونوں ملکوں کے شہری ہوا بازی حکام کے درمیان اس برس کے آغاز سے ہی تکنیکی سطح کی بات چیت جاری تھی تاکہ براہِ راست ہوائی خدمات دوبارہ شروع کی جا سکیں اور ایک نظرثانی شدہ ایئر سروسز معاہدہ تیار کیا جا سکے۔ ان بات چیت کے نتیجے میں یہ طے پایا ہے کہ دونوں ملکوں کے نامزد شہروں کو جوڑنے والی پروازیں اکتوبر 2025 کے آخر تک، موسم سرما کے شیڈول کے مطابق، دوبارہ شروع کی جا سکیں گی۔ تاہم یہ فیصلہ دونوں ممالک کی ایئرلائنز کے تجارتی فیصلوں اور آپریشنل تقاضوں پر منحصر ہوگا۔
عوامی روابط اور دوطرفہ تبادلے کو فروغ
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ شہری ہوا بازی حکام کے درمیان اس معاہدے سے بھارت اور چین کے درمیان عوامی روابط کو مزید تقویت ملے گی اور باہمی تبادلے بتدریج معمول پر آئیں گے۔
ویزا سہولت اور دیگر معاہدے
یہ پیش رفت اگست میں چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کے دورۂ بھارت کے دوران ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان کی ملاقات وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ہوئی تھی، جس میں دونوں ملکوں نے جلد از جلد پروازیں بحال کرنے اور ایئر سروسز معاہدے کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا تھا۔ ساتھ ہی سیاحت، کاروبار، میڈیا اور دیگر زمروں کے مسافروں کے لیے ویزا سہولت پر بھی غور کیا گیا تھا۔
پس منظر: کشیدگی اورمعطلی
بھارت اور چین کے درمیان براہِ راست پروازیں ڈوکلام تنازع اور بعد ازاں کووِڈ-19 وبا کے دوران معطل کر دی گئی تھیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں نے تعلقات میں بہتری لانے کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔ اگست میں وانگ ای نے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال کے ساتھ سرحدی مسائل پر 24ویں خصوصی نمائندہ مذاکرات کی بھی صدارت کی تھی اور وزیرِاعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی۔
مودی-شی ملاقات اور ایس سی او سربراہ اجلاس
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس موقع پر کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان مستحکم اور تعمیری تعلقات نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں امن و خوشحالی کے لیے ضروری ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی، جہاں صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے عوامی روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا اور اس کے لیے پروازوں اور ویزا سہولت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایکسس بینک کے ویزا اور ماسٹر کارڈ کریڈٹ کارڈز سے شروعات. ماہرین کے مطابق ایپل…
وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ہوئی بات چیت کے بارے میں سوشل…
بیان کے مطابق پلانٹ کی تعمیر پر مجموعی طور پر 16.80 کروڑ روپے خرچ ہوئے…
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ کا بڑا فیصلہ، گندم، جو، چنا…
منگلور ریفائنری اینڈ پیٹروکیمیکلز لمیٹڈ (ایم آر پی ایل) کے پلانٹ میں بدھ کو دھماکے…
سوربھ راجپوت کے قتل کے معاملے میں ضلع جج اروند کمار شرما کی عدالت کا…