قومی

Electronics and IT Minister Ashwini Vaishnaw: بھارت پورے الیکٹرانکس ایکو سسٹم میں بنے گا بڑا کھلاڑی، 11 سال میں پیداوار چھ گنا بڑھی: اشونی ویشنو

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے پیر کو کہا کہ بھارت آنے والے برسوں میں پورے الیکٹرانکس ایکو سسٹم میں ایک بڑے عالمی کھلاڑی کے طور پر ابھرے گا۔ اس ایکو سسٹم میں ڈیزائن، مینوفیکچرنگ، آپریٹنگ سسٹم، ایپلیکیشنز، مٹیریل اور جدید آلات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بھارت نے اس شعبے میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ اشونی ویشنو نے بتایا کہ گزشتہ 11 برسوں کے دوران بھارت میں الیکٹرانکس کی پیداوار میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ الیکٹرانکس برآمدات میں آٹھ گنا تک اضافہ درج کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس نمایاں ترقی کے باعث الیکٹرانکس اب بھارت کے سرفہرست تین برآمدی شعبوں میں شامل ہو چکا ہے، جو معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایپل کمپنی نے سال 2025 میں بھارت سے 50 ارب ڈالر مالیت کے موبائل فون برآمد کیے ہیں۔ انہوں نے اسے ’میک اِن انڈیا‘ مہم اور بھارت کو ایک پیداواری مرکز بنانے کی سمت ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت عالمی کمپنیوں کے بھارت پر بڑھتے اعتماد کی علامت ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک میں 46 نئے کمپوننٹ مینوفیکچرنگ پروجیکٹس، لیپ ٹاپ، سرور اور آڈیو ڈیوائس بنانے والی کمپنیوں کے شامل ہونے سے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ بھارتی معیشت کی ایک مضبوط بنیاد بن رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال چار سیمی کنڈکٹر پلانٹس میں تجارتی پیداوار شروع ہو جائے گی، جو بھارت کو چپ مینوفیکچرنگ میں خود کفیل بنانے کی سمت اہم قدم ہے۔ اشونی ویشنو کے مطابق اس وقت الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ سیکٹر میں تقریباً 25 لاکھ افراد کو روزگار حاصل ہے۔ کئی یونٹس میں ایک ہی مقام پر 5 ہزار سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں، جبکہ کچھ بڑے صنعتی مراکز میں یہ تعداد 40 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جو روزگار کے وسیع مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔

اس سے قبل مرکزی حکومت نے ڈیزائن لنکڈ انسینٹو اسکیم کے تحت 24 نئے سیمی کنڈکٹر چپ ڈیزائن منصوبوں کی منظوری دی تھی۔ یہ منصوبے ویڈیو نگرانی، ڈرون ڈیٹیکشن، انرجی میٹر، مائیکرو پروسیسر، سیٹلائٹ کمیونیکیشن، براڈبینڈ اور آئی او ٹی سسٹمز سے متعلق ہیں۔ حکومتی بیان کے مطابق ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت اب تک 16 ٹیپ آؤٹ، 6 اے ایس آئی سی چپس، 10 پیٹنٹس اور ایک ہزار سے زائد انجینئر شامل ہو چکے ہیں، جبکہ نجی سرمایہ کاری میں بھی تین گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Chief Minister’s Breakfast Scheme: تمل ناڈو کے اسکولوں میں اب طلبہ کو ملے گا ناشتہ، وزیراعلیٰ وجے نے بھی بچوں کے ساتھ کھایا، ویڈیو وائرل

تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…

3 hours ago