قومی

India at Risk of Cyber War after Pahalgam Attack: پہلگام اٹیک کے بعد ہندوستان پر سائبر جنگ کا خطرہ، 10 لاکھ سے زیادہ حملے کیے گئے ریکارڈ: مہاراشٹر سائبر سیل

ممبئی: جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کو اب ایک نئے محاذ پر حملوں کا سامنا ہے، جسے ’سائبر وارفیئر‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر سائبر سیل کی طرف سے تیار کردہ ایک تفصیلی رپورٹ ’ایکوز آف پہلگام‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 23 ​​اپریل سے ملک پر تقریباً 10 لاکھ سائبر حملے ہو چکے ہیں۔ یہ حملے نہ صرف ڈیجیٹل سیکورٹی کو چیلنج کر رہے ہیں بلکہ ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

مہاراشٹر سائبر سیل کے چیف یشسوی یادو نے کہا، ’’پہلگام حملے کے بعد سائبر حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ کوئی عام ڈیجیٹل حملہ نہیں ہے بلکہ ایک منصوبہ بند سائبر جنگ ہے جس کا مقصد ہندوستان کی ڈیجیٹل اور قومی سلامتی کو کمزور کرنا ہے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق یہ حملے بنیادی طور پر پاکستان، مشرق وسطیٰ، مراکش اور انڈونیشیا سے کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کے پیچھے اسلامی گروہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی سائبر تنظیمیں سرگرم ہیں، جن میں پاکستان کا ٹیم انسینس پی کے سرفہرست ہے۔ یہ ایک ایڈوانسڈ پرسسٹنٹ تھریٹ (اے پی ٹی) گروپ ہے۔ اس گروپ نے آرمی کالج آف نرسنگ، سینک ویلفیئر اور کئی آرمی پبلک اسکولوں کی ویب سائٹس کو نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں ویب سائٹ ڈیفیسمنٹ، کنٹینٹ مینجمنٹ سسٹم ایکسپلائٹیشن اور کمانڈ اینڈ کنٹرول (C2) حملے جیسے طریقے اپنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، بنگلہ دیش کے MTBD اور انڈونیشیا کے Indo Hex Sec جیسے گروپ بھی ہندوستانی ٹیلی کام ڈیٹا اور مقامی انتظامی پینل کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ حملے 26 اپریل کو شروع ہوئے اور کئی معاملات میں کامیاب بھی رہے۔ ڈارک ویب پر انڈین ٹیلی کام کا ٹیرا بائٹ ڈیٹا لیک ہونے کے واقعے نے ملک کے سائبر سیکورٹی سسٹم پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مہاراشٹر سائبر نے کچھ حملوں کو روکا ہے، لیکن رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہندوستان کا اہم انفراسٹرکچر جیسے ریلوے، بینکنگ اور سرکاری پورٹلز خطرے میں ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی جگہوں پر سائبر سیکورٹی کمزور ہے، جس کی وجہ سے حملے کامیاب ہوئے، ہندوستانی ٹیلی کام کا ٹیرا بائٹ ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک ہو گیا ہے، جس سے ملک کے سیکورٹی سسٹم پر بڑا سوال اٹھ رہا ہے۔

یشسوی یادو نے کہا کہ کئی سرکاری اور نجی اداروں میں سائبر سیکورٹی کا نظام کمزور ہے جس کا فائدہ ہیکر اٹھا رہے ہیں۔ ہم نے تمام ایجنسیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی سائبر سیکورٹی کو مضبوط کریں۔ ریڈ ٹیم اسسمنٹ، ڈی ڈی او ایس فیل اوور ٹیسٹ، اور سسٹم آڈٹ کو ضروری کرنا ہوگا۔

’ایکوز آف پہلگام‘ رپورٹ کو قومی سلامتی ایجنسیوں کے لیے ایک انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سائبر جنگ اب جسمانی حملوں کی طرح خطرناک ہو چکی ہے۔

ہندوستان ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: پوپ لیو چہاردہم کی سرجری کے بعد وزیر اعظم مودی نے جلد صحت یابی کی پرارتھناکی

سرجری کے دوران جانچے گئے بافتوں سے پہلے کیے گئے ٹیسٹوں کی بنیاد پر لگائے…

43 minutes ago