کوالالمپور(ملیشیا): بھارت اور آسیان رکن ممالک کے رہنماؤں نے اتوار کو ’آسیان۔انڈیا مشترکہ اعلامیہ برائے پائیدار سیاحت‘ کو منظور کرتے ہوئے خطے میں ماحول دوست، جامع اور ذمہ دار سیاحت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر دونوں فریقین نے ماحولیاتی استحکام اور آلودگی میں کمی کو اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے کلیدی نکات میں شامل کیا۔
پائیدار سیاحت کا نیا ماڈل
کوالالمپور میں منعقدہ 22ویں آسیان۔انڈیا سربراہ اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق، رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاحت کے شعبے میں ’Reduce, Reuse, Recycle‘ ماڈل اپنایا جائے، Travel for LiFE مہم کو فروغ دیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو ماحول اور کرۂ ارض کے لیے موزوں ہوں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ زمین اور پانی کے وسائل کا محتاط اور موزوں استعمال کیا جائے، قدرتی مقامات پر حد سے زیادہ بھیڑ یا استعمال کو روکا جائے، اور حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کے موافق سیاحتی طریقے اپنائے جائیں۔ اس کے علاوہ، سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے، پائیدار سپلائی چین اور بہتر ڈیسٹی نیشن مینجمنٹ کو بھی ترجیح دینے پر اتفاق کیا گیا تاکہ طویل المدتی ماحولیاتی تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے مشترکہ عزم
اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارت اور آسیان ممالک ہوا، پانی اور زمین کی آلودگی میں کمی کے لیے سخت اصول و ضوابط اپنائیں گے، ذمہ دارانہ کھپت (Responsible Consumption) کو فروغ دیں گے اور ماحولیاتی قوانین کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائیں گے۔ رہنماؤں نے یہ بھی طے کیا کہ Environment, Social and Governance (ESG) پروٹوکول پر عمل درآمد بڑھایا جائے اور سیاحتی مقامات پر قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) کے استعمال کو ترجیح دی جائے، بالخصوص ان مقامات پر جو ثقافتی ورثے یا ماحولیاتی لحاظ سے حساس ہوں۔
قابل تجدید توانائی اور تحقیقی تعاون
اعلامیے میں اس بات کی بھی سفارش کی گئی کہ ASEAN Center for Energy اور بھارت کا ادارہ ’The Energy and Resources Institute (TERI)‘ ایک ساتھ مل کر سیاحتی شعبے میں صاف توانائی اور کاربن سنک اقدامات کو فروغ دیں۔ اس تعاون سے ایسے ماڈلز تیار کیے جائیں گے جنہیں Resilient اور Replicable طور پر دنیا کے مختلف سیاحتی مقامات پر نافذ کیا جا سکے۔
2025 کو ’آسیان۔انڈیا سیاحت کا سال‘ قرار دیا گیا
یہ اعلامیہ اس موقع پر سامنے آیا ہے جب سال 2025 کو ’آسیان۔انڈیا سیاحت کا سال‘ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاحت کے ذریعے پائیدار ترقی، قدرتی ماحولیاتی نظام کا تحفظ، ثقافتی تبادلہ اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
وزیراعظم نریندر مودی کا خطاب
وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس سے اپنے ورچوئل خطاب میں کہا کہ ’’اکیسویں صدی بھارت اور آسیان ممالک کی صدی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آسیان، بھارت کی ’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘ کا اہم ستون ہے، اور دونوں خطے انڈو۔پیسیفک کے امن، ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے مزید اعلان کیا کہ سال 2026 کو ’آسیان۔انڈیا میری ٹائم کو-آپریشن کا سال‘ کے طور پر منایا جائے گا۔
جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی توسیع
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارت۔آسیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے آسیان کی مرکزیت اور انڈو۔پیسیفک وژن کے لیے بھارت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں خطے ایشیا میں امن، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے مشترکہ علمبردار ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…