وزیر اعظم نریندر مودی۔
روس-یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان عالمی سفارت کاری کے حلقوں سے ایک نہایت حیران کن اور بڑی بین الاقوامی خبر سامنے آئی ہے۔ آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو فون کیا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک اہم دوطرفہ گفتگو ہوئی۔ اس دوران وزیر اعظم مودی نے پاشینیان کو پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔تاہم اس فون کال کا سب سے اہم پہلو یہ رہا کہ وزیر اعظم مودی نے مشرقِ وسطیٰ کی خراب صورتحال کے دوران ایران سے بھارتی شہریوں کے محفوظ انخلا میں آرمینیا کی جانب سے فراہم کیے گئے تعاون پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
تجارت، ٹیکنالوجی اور دفاعی تعاون پر اتفاق
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اس گفتگو کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ بدھ کے روز آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان سے بات کر کے انہیں خوشی ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط سمیت مختلف اہم شعبوں میں دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے آرمینیا کو جدید دفاعی سازوسامان، جیسے پیناکا راکٹ سسٹم، کی فراہمی کے تناظر میں یہ گفتگو دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔
پوتن کی وارننگ کے باوجود پاشینیان کا مؤقف
اس گفتگو کا جغرافیائی سیاسی پہلو بھی خاصا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ 7 جون کو آرمینیا میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں پاشینیان کی “سوک کنٹریکٹ پارٹی” کی کامیابی نے عالمی توجہ حاصل کی، کیونکہ آرمینیا بتدریج روس کے اثر و رسوخ سے نکل کر یورپی یونین اور مغربی ممالک کے قریب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس تبدیلی پر روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا تھا کہ روس آرمینیا کو رعایتی نرخوں پر فراہم کی جانے والی گیس کی سہولت ختم کر سکتا ہے، جبکہ یورپی منڈی میں یہی گیس کہیں زیادہ قیمت پر خریدنا پڑ سکتی ہے۔ پوتن نے یہ بھی کہا تھا کہ یوکرین کی موجودہ صورتحال یورپی یونین کے ساتھ قربت کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔
انتخابات سے قبل روسی پابندیاں
آرمینیا پر دباؤ بڑھانے کے لیے روس نے انتخابات سے قبل آرمینیائی پھولوں، منرل واٹر، کونیاک اور تازہ پھلوں و سبزیوں کی برآمدات پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ایسے معاشی اور تزویراتی دباؤ کے باوجود پاشینیان کی جانب سے فوری طور پر وزیر اعظم مودی سے رابطہ کرنا اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ آرمینیا بھارت کو ایک قابلِ اعتماد اور اہم عالمی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے، جو اسے خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے دوران نئے مواقع اور تعاون فراہم کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کے ٹی ایل اے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ملبے سے کم از کم ایک…
مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…
حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…
وائرل ویڈیو نے ایک بار پھر پولیس محکمہ میں نظم و ضبط اور وردی کے…
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…