نئی دہلی: پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے بعد اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا الائنس‘‘ کا اہم اجلاس پیر کو نئی دہلی میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب الائنس کی جماعتیں انتخابی نتائج، باہمی اختلافات اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی جیسے اہم چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ اجلاس میں 23 اپوزیشن جماعتیں شریک ہوں گی، تاہم بعض اہم اتحادی جماعتوں کی عدم شرکت نے اتحاد کی اندرونی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہونے والے اس اجلاس میں کانگریس صدر ملّیکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، پارٹی کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور دیگر اپوزیشن لیڈر شریک ہوں گے۔ اجلاس کو آئندہ سیاسی حکمت عملی، پارلیمانی تعاون اور مرکزی حکومت کے خلاف مشترکہ موقف طے کرنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے اتوار کو بتایا کہ 23 سیاسی جماعتوں نے اجلاس میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف نظریات اور علاقائی ترجیحات کے باوجود الائنس کی جماعتیں جمہوری اقدار اور آئینی اصولوں کے تحفظ کے مقصد پر متحد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحاد کی اصل طاقت اس کے تنوع میں پوشیدہ ہے اور تمام جماعتیں مشترکہ اہداف کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ اس اجلاس کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ممتا بنرجی پہلی مرتبہ دہلی میں ہونے والی ’انڈیا الائنس‘ کی کسی اہم میٹنگ میں شرکت کریں گی۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر اور راجیہ سبھا رکن ڈیرک او برائن نے بھی اتحاد کی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتیں ایک واضح مقصد اور مشترکہ عزم کے ساتھ اجلاس میں شریک ہو رہی ہیں۔
تاہم اتحاد کے اندر اختلافات بھی کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ تمل ناڈو میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور کانگریس کی بعض حکمت عملیوں سے ناراض دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) نے اجلاس سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح عام آدمی پارٹی کی شرکت بھی غیر یقینی بتائی جا رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان جماعتوں کی عدم موجودگی اتحاد کے اندر موجود فاصلوں کو نمایاں کرتی ہے۔ اجلاس میں کانگریس اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے درمیان کیرلم سے متعلق تنازعہ بھی موضوع بحث بن سکتا ہے۔ سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری ایم اے بے بی نے کانگریس صدر ملّیکارجن کھڑگے کو خط لکھ کر ان الزامات پر وضاحت طلب کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ کیرلم میں سی پی ایم اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان مبینہ مفاہمت موجود تھی۔ سی پی ایم کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے بیانات اپوزیشن اتحاد کی روح کے منافی ہیں اور ان سے باہمی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
خط میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیرلم کے سابق وزیرِ اعلیٰ پنارائی وجین کے خلاف کانگریسی لیڈروں کے مسلسل بیانات اور تحقیقات کے مطالبات کیا اپوزیشن اتحاد کو کمزور نہیں کرتے؟ اختلافات کے باوجود سی پی ایم نے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے اور پارٹی کی نمائندگی راجیہ سبھا رکن جان بریٹاس کریں گے۔ دوسری جانب سی پی ایم کے سینئر لیڈر حنان ملا نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلے، لیکن بدقسمتی سے اس معاملے میں مطلوبہ سیاسی پختگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے راہل گاندھی کے بعض حالیہ بیانات پر بھی اعتراض کیا۔
اگرچہ اجلاس کا باضابطہ ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا، تاہم کانگریس کے مطابق مختلف اپوزیشن جماعتیں کئی قومی مسائل پر مشترکہ موقف رکھتی ہیں۔ جے رام رمیش نے مرکزی حکومت پر ووٹنگ کے حقوق کو محدود کرنے، آئینی اداروں پر دباؤ ڈالنے، تحقیقاتی ایجنسیوں کے مبینہ سیاسی استعمال، مہنگائی، بے روزگاری اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اجلاس سے قبل ہی اپوزیشن اتحاد کی یکجہتی پر نشانہ سادھا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان شہزاد پونا والا نے دعویٰ کیا کہ اس اتحاد کے پاس نہ کوئی واضح مشن ہے، نہ وژن، بلکہ صرف کنفیوژن ہے۔ جبکہ بہار بی جے پی کے صدر سنجے ساراوگی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اندرونی اختلافات اور قیادت کے بحران کا شکار ہیں۔ پیر کو ہونے والا اجلاس اس لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ آیا ’انڈیا الائنس‘ انتخابی ناکامیوں اور داخلی اختلافات کے باوجود متحد رہنے کا تاثر قائم رکھ پاتا ہے یا پھر موجودہ اختلافات مزید نمایاں ہو جاتے ہیں۔ سیاسی حلقوں کی نظریں اب اسی اجلاس کے نتائج اور اس سے نکلنے والے پیغام پر مرکوز ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…