قومی

Income Tax Raid Restaurant Chains: ستر ہزار کروڑ روپے کی مبینہ ٹیکس چوری: ملک بھر میں ریسٹورنٹ چینز پر محکمۂ انکم ٹیکس کے چھاپے، جانئے کس طرح دھوکہ دہی کا ہوا پردہ فاش؟

نئی دہلی: ملک بھر میں ٹیکس چوری کے ایک مبینہ بڑے معاملے کے انکشاف کے بعد انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ آف انڈیا نے متعدد ریسٹورنٹ چینز کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں تقریباً 70 ہزار کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے جس کے بعد مختلف شہروں میں بیک وقت چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد ریسٹورنٹ صنعت میں ہلچل مچ گئی ہے اور کئی کاروباری حلقے تشویش میں مبتلا ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے کی ابتدا حیدرآباد کی ایک بڑی بریانی ریسٹورنٹ چین سے ہوئی جہاں محکمۂ انکم ٹیکس کو مالی بے ضابطگیوں کا شبہ ہوا۔ ابتدائی چھان بین کے دوران حکام کو معلوم ہوا کہ ریسٹورنٹ انتظامیہ مبینہ طور پر فروخت چھپانے کے لیے ایک خاص بلنگ سافٹ ویئر استعمال کر رہی تھی جس کے ذریعے اصل آمدنی کو کم ظاہر کیا جاتا تھا۔ اس طریقے سے ٹیکس کی رقم کم ادا کی جاتی تھی جس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تحقیقاتی افسران کے مطابق بعض ریسٹورنٹس میں ایسا سسٹم استعمال کیا گیا جس میں گاہک کو مکمل بل تو دیا جاتا تھا، لیکن مرکزی ڈیجیٹل ریکارڈ میں فروخت کی اصل رقم تبدیل کر دی جاتی تھی۔ اس عمل کے باعث حساب کتاب میں فرق پیدا ہو جاتا تھا اور ٹیکس کی ادائیگی کم دکھائی دیتی تھی۔ محکمۂ انکم ٹیکس کی ٹیموں نے اس سلسلے میں ریسٹورنٹس میں نصب پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینوں، اکاؤنٹنگ سسٹمز اور سرور ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

حکام نے مالیاتی دستاویزات، بینک لین دین اور ڈیجیٹل ریکارڈ بھی کھنگالے ہیں تاکہ اصل فروخت اور ظاہر کی گئی آمدنی کے درمیان فرق کا پتہ چلایا جا سکے۔ اگر یہ فرق ثابت ہو جاتا ہے تو اسے بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا واضح ثبوت سمجھا جائے گا۔ افسران کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ یہ طریقہ صرف ایک ریسٹورنٹ چین تک محدود نہ ہو بلکہ ریسٹورنٹ صنعت کے کئی حصوں میں استعمال کیا گیا ہو۔

اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ممبئی، حیدرآباد اور دیگر بڑے شہروں میں بھی انکم ٹیکس کی ٹیموں نے مختلف ریسٹورنٹس کے دفاتر اور آؤٹ لیٹس پر چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران اکاؤنٹنگ ریکارڈ، سافٹ ویئر لاگز اور ڈیجیٹل سسٹمز کی تفصیل سے جانچ کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ریسٹورنٹ سیکٹر میں ٹیکس چوری کا اب تک کا سب سے بڑا معاملہ ثابت ہو سکتا ہے۔ 70 ہزار کروڑ روپے کی ممکنہ رقم کو انتہائی بڑا مالیاتی گھپلا قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مکمل جانچ کے بعد ملوث کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi and Swiss President to Meet Today: بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات میں نئے باب کا آغاز، پی ایم مودی اور سوئس صدر کے درمیان آج ہوگی اہم ملاقات

اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…

55 minutes ago

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

2 hours ago

SIR Row Escalates: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

3 hours ago