قومی

Imran Masood Statement on Congress-SP Alliance: ’کسی کی چمچہ گیری نہیں کریں گے‘، سماجوادی پارٹی سے اتحاد پر عمران مسعود کا بڑا بیان، کہا- اس بار چاہئیں’ملائی دار سیٹیں‘

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان ممکنہ اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم کو لے کر سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اسی دوران سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور کانگریس کے وفادار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اتحاد کے حوالے سے حتمی فیصلہ پارٹی کو کرنا ہے۔

’ہم اپنی پارٹی کی وفاداری کریں گے‘

عمران مسعود نے کہا، ’’انچارج جو کہہ رہے ہیں، یا جو میں کہہ رہا ہوں، یا پھر جو ریاستی صدر کہہ رہے ہیں، سب پارٹی کے لیے کہہ رہے ہیں۔ ہم پارٹی کے لیے ہی لڑ رہے ہیں۔ ہم تو پارٹی کے لیے بولنے والے لوگ ہیں۔ ہم اپنی پارٹی کی وفاداری کریں گے، ہم دوسرے کی وفاداری تھوڑی کریں گے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ان کا کام اپنی پارٹی کو مضبوط کرنا ہے۔ عمران مسعود کے مطابق، ’’ہمارا کام کسی دوسرے کی چمچہ گیری کرنا نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ باقی لوگ اپنا کام کرتے رہیں، جبکہ وہ اپنی تیاری اور پارٹی کے کام میں مصروف ہیں۔

’پارٹی کو ختم کرکے کوئی فیصلہ نہیں ہوگا‘

سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے سوال پر عمران مسعود نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ پارٹی کو کرنا ہے، لیکن پارٹی کو ختم کرکے کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کو ختم نہیں ہونے دیں گے اور اگر پارٹی نے انہیں کچھ دیا ہے تو وہ بھی پارٹی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے موجود ہیں۔ عمران مسعود نے کانگریس چھوڑنے سے متعلق جاری قیاس آرائیوں پر بھی اپنا موقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کہیں اور جانے کا راستہ نہیں تلاش کر رہے ہیں اور ’’قبر تک کانگریس میں رہیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، لیکن ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

’اس بار صرف چھاچھ نہیں، ملائی بھی چاہیے‘

سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم کے حوالے سے عمران مسعود نے کہا کہ اتحاد کی صورت میں کانگریس کو جیتنے والی سیٹیں ملنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا، ’’اس بار صرف چھاچھ نہیں، ملائی بھی چاہیے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اس بار کانگریس ’’ملائی دار سیٹیں‘‘ لے کر رہے گی۔ عمران مسعود نے بتایا کہ انہوں نے اتر پردیش کانگریس کے انچارج راجندر پال گوتم تک اپنی تمام باتیں پہنچا دی ہیں۔ اب دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم پر ہونے والے فیصلے پر توجہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

4 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

5 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

5 hours ago