قومی

CEC Gyanesh Kumar EC Meeting: تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن کی اہم میٹنگ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ دونوں کمشنر بھی شریک

نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے ہفتے کے روز ایک اہم میٹنگ کی۔ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ دونوں الیکشن کمشنروں ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی نے بھی شرکت کی۔ میٹنگ میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے دوران حذف ہونے والے ناموں سے متعلق دعووں اور اعتراضات کی مدت میں توسیع سمیت کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ کمیشن نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ان افراد کو دوبارہ ووٹر فہرست میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے جن کے نام SIR کے دوران فہرست میں شامل نہیں ہو سکے۔

دہلی اور مہاراشٹر میں دعووں و اعتراضات کی مدت میں توسیع

الیکشن کمیشن کے مطابق دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) کی درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 30 اکتوبر 2026 تک بڑھا دی گئی ہے۔ نوٹس جاری کرنے اور دعووں و اعتراضات کے نمٹارے کی آخری تاریخ بھی 30 نومبر 2026 تک کر دی گئی ہے۔ اسی طرح مہاراشٹر کے CEO کی درخواست پر وہاں دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 12 اکتوبر 2026 تک بڑھائی گئی ہے، جبکہ نوٹس اور دعووں و اعتراضات کے نمٹارے کی آخری تاریخ 10 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔

BLO گھر جاکر دستاویزات جمع کریں گے

میٹنگ کے بعد جاری الیکشن کمیشن کے بیان کے مطابق SIR کے تحت نوٹس پانے والے افراد کے گھر جا کر بوتھ لیول آفیسرز (BLO) دستاویزات جمع کریں گے۔ کمیشن نے کہا کہ عام طور پر اس کے لیے ذاتی سماعت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ضلع الیکشن افسران (DEO) ضرورت کے مطابق نائٹ شیلٹرز، مزدوروں، غریبوں اور بے گھر افراد کے لیے ہیلپ ڈیسک قائم کریں گے تاکہ ایسے افراد کو انتخابی فہرست سے متعلق کارروائی میں سہولت مل سکے۔ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ SIR کے دوران فارم-6 کے ساتھ حلف نامہ جمع کرنے کی شرط برقرار رہے گی۔ کمیشن کے مطابق سپریم کورٹ بھی فارم-6 میں دیے گئے حلف نامے کی قانونی حیثیت کو درست قرار دے چکی ہے۔

ECINET کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل

میٹنگ میں ECINET نظام کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس کے لیے ایک سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر (DEC) اور IIT/IIM کے آزاد ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ اس کی تمام میٹنگز کا ایجنڈا پہلے سے جاری کیا جائے گا اور اجلاس کی کارروائی سے متعلق معلومات بھی عوامی کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ تمام افسران کی سالانہ کارکردگی کی جائزہ رپورٹ (APAR) ہر سال 31 دسمبر کی مقررہ آخری تاریخ تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ میٹنگ میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اب کسی بھی افسر کے بیرونِ ملک سفر کے لیے الیکشن کمیشن سے پیشگی منظوری لینا ضروری ہوگا۔ کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمشنروں کی جانب سے افسران کو جاری کی جانے والی تمام ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

کابینہ سکریٹری کو خط پر بھی کمیشن کی وضاحت

الیکشن کمیشن نے کابینہ سکریٹری کو بھیجے گئے خط سے متعلق بھی وضاحت پیش کی۔ کمیشن کے مطابق یہ خط الیکشن کمیشن یا اس کے آئی ٹی شعبے سے متعلق کسی پالیسی فیصلے کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ کمیشن میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ایک افسر کے کام سے متعلق تھا۔ کمیشن نے کہا کہ متعلقہ افسر کی جانب سے جاری کیے گئے کام کی تقسیم سے متعلق احکامات دو کمشنروں کی ہدایات کے بعد عملی طور پر نافذ نہیں کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی شعبے کی نگرانی میں ڈپٹی الیکشن کمشنر (DEC) کا کردار کبھی واپس نہیں لیا گیا۔

20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں SIR مکمل

الیکشن کمیشن کے مطابق بہار اور مغربی بنگال سمیت 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ SIR کے دوران یا اس کے بعد جن افراد کے نام ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہو سکے، وہ متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) کے سامنے مسلسل اپ ڈیٹ کے عمل کے تحت اپنا نام شامل کرانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس میں نوجوان اور پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ کمیشن نے چیف الیکٹورل افسران (CEOs) کو ایسے ووٹروں کی سہولت کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ CEOs، DEOs اور EROs کو نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے فوری طور پر خصوصی مہم چلانے کو بھی کہا گیا ہے۔

’SIR سے متعلق فیصلے اتفاقِ رائے سے لیے گئے‘

الیکشن کمیشن نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران SIR سمیت متعدد اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق 24 جون 2025 کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں SIR کرانے کا فیصلہ اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا تھا۔ کمیشن کے مطابق اس عمل کا آغاز بہار سے ہوا، جس کے بعد مغربی بنگال اور دیگر 30 ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بھی اسے آگے بڑھایا گیا۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ SIR سے متعلق مختلف آرا اور تبصرے ادارہ جاتی گفتگو کا حصہ ہیں اور حالیہ فیصلے طے شدہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق کیے گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Uttar Pradesh Heavy Rain: یوپی میں 50 گھنٹے سے طوفانی بارش کا قہر، 17 افراد جاں بحق، 32 اضلاع میں سیلاب کا خطرہ

ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…

8 minutes ago

Vande Mataram: ’وندے ماترم‘ گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا، چنڈی گڑھ میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا اظہار خیال

سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…

54 minutes ago

India Tourism Record Growth: سیر و سیاحت کرنے والے بھر رہے ملک کا خزانہ، سیاحت میں تاریخی تیزی، گھریلو سیاح 428 کروڑ سے پار

غیر ملکی زرِمبادلہ سے 2.76 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی، سیاحت کے شعبے نے…

1 hour ago

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

1 hour ago

SIR Voter List Revision: ووٹر لسٹ میں ’صفائی‘ یا ووٹ کے حق پر بحران؟ جانیے کیا ہے ایس آئی آر تنازع اور کیوں اٹھ رہے ہیں سوالات

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…

2 hours ago