تحریر: چاروی اروڑا
امریکہ کے ویزے کی فوری منظوری، ملک میں یقینی ملازمت یا کسی بھی قسم کے ’’آسان راستے‘‘ کے وعدے بظاہر پرکشش لگتے ہیں، مگر دراصل یہ ایسے فریب ہیں جو لوگوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ایسے دھوکوں میں آنا طویل مدت کی ویزا پابندیوں، مالی نقصان اور خاندانوں کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔
نمبرس یو ایس اے میں وفاقی تعلقات کے شریک صدر مائیکل ہف نے امریکی محکمۂ خارجہ کے یو ایس اسپیکر پروگرام کے تحت ہندوستان کے حالیہ دورے کے دوران ان خدشات پر بات کی۔ نئی دہلی، چندی گڑھ، جالندھر، احمد آباد اور مہسانہ میں ہف نے یونیورسٹی طلبہ، صنعت کے رہنماؤں، ہجرت کے ماہرین اور سفری مشیروں سے ملاقات کی تاکہ اس بات پر تباد لہ خیال کیا جاسکے غیر قانونی ہجرت مسافرو ں کی سلامتی اور امریکی قومی سلامتی یعنی دونوں کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔
سلامتی کے خطرات
ہف وضاحت کرتے ہیں کہ محفوظ سرحدیں ہر ملک کی ترجیح ہوتی ہیں۔ جس طرح ہندوستان اس بات کا انتظام کرتا ہے کہ کون ملک میں داخل ہو سکتا ہے، اسی طرح امریکہ بھی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے سخت سرحدی ضوابط پر عمل کرتا ہے۔
ماضی کے واقعات، جن میں 11 ستمبر کے حملے بھی شامل ہیں—جہاں بعض افراد نے ویزے کی مدت سے زیادہ قیام کیا تھا—نے سرحدی انتظام اور ویزا تعمیل (یعنی ویزا کی شرائط پر عمل) کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
سفری خطرات
جعلی ویزا ایجنٹ اکثر فوری داخلے یا تیسرے ممالک کے ذریعے متبادل راستوں کی پیشکش کر کے مسافروں کا استحصال کرتے ہیں۔ ہف ان دھوکوں سے خبردار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس طرح کے حربے افراد کو خطرناک حالات اور مالی استحصال کے خطرے سے دوچار کر دیتے ہیں۔
وہ درخواست گزاروں کو ترغیب دیتے ہیں کہ درست اور تازہ ترین معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع، جیسے امریکی سفارت خانہ اور قونصل خانوں پر ہی انحصار کریں۔
مفروضہ بمقابلہ حقیقت
غیر قانونی ہجرت کو اکثر مواقع تک پہنچنے کا ایک آسان راستہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن ہف کے مطابق حقیقت میں غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونا جرمانوں، ملک بدری یا دوبارہ داخلے پر طویل مدتی پابندیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’قلیل مدت میں حاصل ہونے والی کوئی بھی رقم ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار رہتی ہے۔‘‘
وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ درست ویزا رکھنے والے مسافروں کو بھی اپنے قیام کی شرائط کا احترام کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر ویزے کی مدت سے زیادہ قیام برسوں تک پابندیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ہف کے مطابق اس طرح کی خلاف ورزیاں نہ صرف افراد بلکہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’قواعد کی پاسداری اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ تعلقات مسلسل مضبوط ہوتے رہیں۔‘‘
محفوظ اور باخبر سفر
ہف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فریب کی روک تھام اور پابندیوں سے بچاؤ کے لیے عوامی آگاہی نہایت اہم ہے۔ وہ امریکہ اور ہندوستان دونوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ گمراہ کن ویزا اسکیموں کی نشاندہی کریں اور ان کا تدارک کریں۔ وہ کہتے ہیں ’’امریکہ آنا ایک اعزاز ہے۔ اس اعزاز کی پاسداری درست فیصلے کر کے کریں۔ محفوظ، قانونی اور باخبر سفر ہی واحد راستہ ہے۔‘‘
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…
جنوری 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لکشدیپ دورے کے بعد سیاحت کے ساتھ…
اکھیل وشو گایتری پریوار کے زیر اہتمام صوبائی شکشک گریما سمیلن میں ریاست بھر سے…