قومی

Azam Khan’s statement: ’’ایس پی اقتدار میں آئی تو نہیں کی جائے گی ’بدلے‘ کی کارروائی…میرا مذہب مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا…‘‘ اعظم خان کا بیان

رامپور: سال 2027 میں اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس بار تبدیلی ہوگی اور حکومت سماجوادی پارٹی بنائے گی۔ دوسری جانب، سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان، موجودہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے دور میں برسوں جیل میں رہے ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کہ اگر سماجوادی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو کیا موجودہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر بھی کارروائی ہوگی؟ اس سوال پر اعظم خان نے کہا کہ میرا مذہب مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔

ہمارے دامن پر بے ایمانی کا کوئی داغ نہیں

آئی اے این ایس سے بات چیت میں سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈران نے کہا کہ یہ تو بدلے کی بات ہوگئی۔ ہمارے ساتھ تو بغیر بدلے کے ہوا ہے۔ یہ حکومت نہیں جات سکتی کہ کیا ہماری غلطی تھی، سوائے اس کے کہ ہم سماجوادی پارٹی سے جڑے رہے تھے، یا پھر میں ایک مسلمان تھا۔ آج بھی ہمارے دامن پر بے ایمانی کا کوئی داغ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ114 مقدمات کے باوجود کوئی بھی مقدمہ کرپشن یا کمیشن کا داغ نہیں ہے۔ اگر ہم بھی وہی کریں جو ہمارے ساتھ ہوا، تو ہم میں اور ان میں کیا فرق رہ جائے گا؟ میرا مذہب مجھے بدلہ لینے کی اجازت نہیں دیتا۔

ہم بدلہ نہیں لیتے…لیکن انصاف ضرور ہوگا

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر 2027 میں سماجوادی پارٹی کی حکومت بنی تو کیا آنجنیہ سنگھ جیسے افسروں کے خلاف کارروائی ہوگی؟ اس پر اعظم خان نے کہا کہ ابھی تو ہم ابھی کی بات دیکھ رہے ہیں۔ لیکن ہم کسی سے بدلہ نہیں لیتے، کیونکہ اگر ہم بھی وہی کریں جو اس نے کیا، تو پھر ہم میں اور ان میں فرق کیا رہ جائے گا؟ اس لیے ہم بدلہ نہیں، انصاف پر یقین رکھتے ہیں، اور وہی کریں گے۔ لیکن انصاف ضرور ہوگا۔

ایک اور سوال پر، کہ کیا آپ کی حکومت آنے پر سنبھل اور بریلی میں ہوئی ناانصافی کا بدلہ لیا جائے گا، تو انہوں نے کہا کہ جیسا کہ میں نے پچھلے سوال کے جواب میں کہا، ہم بدلے کی نیت سے کام نہیں کرتے، ہاں، ہم انصاف کریں گے۔‘‘

ایسی باتوں پر خاموش رہنا ہی زیادہ بہتر

بی جے پی کے سابق ایم ایل اے راگھویندر سنگھ کے ایک بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اعظم خان نے کہا کہ ایسی باتوں پر خاموش رہنا ہی زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ فارسی میں ایک کہاوت ہے کہ جاہل کا جواب دینے سے بہتر ہے کہ خاموش ہی رہا جائے، کیونکہ اگر ہم کسی بیہودہ بات پر تبصرہ کرتے ہیں تو ہم اس کا پروپیگنڈا اور بڑھا دیتے ہیں۔ جو کم گھٹیا سوچ والے لوگ ہوتے ہیں، وہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کی گھٹیا باتوں پر ردعمل ملے۔ وہ مدعا بحث کا بن جاتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

5 hours ago

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

5 hours ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

5 hours ago