قومی

ICMR warns of ‘silent epidemic’: حد سے زیادہ نمک کھا رہے ہیں ہندوستانی، آئی سی ایم آر نے اسے ’’خاموش وبا‘‘ قرار دیا، کہا-یہ ہائی بلڈپریشر، فالج اور دل کی بیماریوں کا باعث

آئی سی ایم آر کے قومی ادارہ برائے علمِ امراض (National Institute of Epidemiology – NIE) کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہندوستان میں نمک کا حد سے زیادہ استعمال ایک ’’خاموش وبا‘‘ کو جنم دے رہا ہے، جس سے لوگوں میں ہائی بلڈ پریشر، فالج، دل کی بیماریوں اور گردوں کے امراض کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین نے اس خطرناک رجحان سے نمٹنے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر نمک کے استعمال میں کمی لانے کی مہم شروع کی ہے، جس کا محور کم سوڈیم والے نمک کے متبادل کا فروغ ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی سفارشات کے مطابق ایک شخص کو روزانہ 5 گرام سے کم نمک استعمال کرنا چاہیے، لیکن تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شہری علاقوں میں بھارتی عوام اوسطاً 9.2 گرام نمک روزانہ جب کہ دیہی علاقوں میں 5.6 گرام نمک یومیہ استعمال کرتے ہیں۔ این آئی ای کے سینئر سائنس داں اور اس تحقیق کے سبراہ ڈاکٹر شرن مرلی نے کہا کہ کم سوڈیم والا نمک،  جس میں سوڈیم کلورائیڈ کی جگہ پوٹاشیم یا میگنیشیم جیسے متبادل شامل کیے جاتے ہیں،  ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے اور دل کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

این آئی ای نے شروع کی تبدیلی لانے کی مہم

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایپیڈیمیولوجی نے نمک کے استعمال میں کمی کے لیے ایک تین سالہ پراجیکٹ کا آغاز پنجاب اور تلنگانہ میں کیا ہے، جسے ICMR کی معاونت حاصل ہے۔ اس پراجیکٹ کا مقصد صحت و تندرستی مراکز (HWCs) کے ذریعے فراہم کی جانے والی غذائی رہنمائی کے اثرات کا جائزہ لینا ہے، تاکہ ہائی بلڈ پریشر اور نمک کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔ اس کوشش کے تحت NIE نے چنئی کے 300 ریٹیل اسٹورز کا سروے بھی کیا، تاکہ کم سوڈیم نمک (LSS) کی دستیابی اور قیمتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق LSS صرف 28 فیصد دکانوں میں دستیاب تھا ، سپر مارکیٹس میں 52 فیصد جبکہ چھوٹی کریانہ دکانوں میں صرف 4 فیصد۔

قیمت کے لحاظ سے، کم سوڈیم نمک کی قیمت اوسطاً 5.6 روپے فی 100 گرام رہی، جو کہ عام آیوڈین ملا نمک (2.7 روپے فی 100 گرام) کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔ ڈاکٹر مرلی کے مطابق یہ کمی، آگاہی اور رسائی کے درمیان فرق کی نشان دہی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ NIE نے حال ہی میں #PinchForAChange نامی ایک مہم کا آغاز کیا ہے، جو ٹوئٹر اور لنکڈ ان پر جاری ہے۔ اس مہم کا مقصد نمک کے پوشیدہ ذرائع کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، کم سوڈیم متبادل کو فروغ دینا، اور عوام کو دل کے لیے بہتر غذائی انتخاب کی طرف راغب کرنا ہے۔ ڈاکٹر مرلی نے کہا کہ ’’یہ صرف نمک کم کرنے کی بات نہیں، بلکہ ہماری خوراک، نظام اور دلوں میں توازن بحال کرنے کا عمل ہے۔ ایک چٹکی کے ساتھ ہم تبدیلی لا سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Lehra Do Tiranga March: دفعہ 163 نافذ، سینٹرل پارک دو دن کے لیے بند، سی جے پی کی ترنگا یاترا پر دہلی پولیس کا بیان

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے بتایا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این…

50 minutes ago

Punam Raut Quits International Cricket: پونم راوت نے بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا کیا اعلان

پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…

10 hours ago