قومی

Iqra Hasan became emotional over the temple dispute: ’’مجھے ملی اور دہشت گرد کہا گیا‘‘— مندر تنازع پر سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کا چھلکا درد

سہارنپور کے چھاپرگاؤں میں شیو مندر کو نقصان پہنچائے جانے کے بعد بھڑکے احتجاج کے دوران سماج وادی پارٹی کی کیرانہ سے رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو ’ملی‘ اور ’دہشت گرد‘ کہے جانے پر انہوں سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ اقرا حسن نے کہا کہ یہ صرف ان کی نہیں بلکہ پورے سماج کی خواتین کی توہین ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ دب کر سیاست نہیں کریں گی اور سماج کو توڑنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔

’یہ میرا نہیں، پورے علاقے کی خواتین کی توہین‘

سہارنپور کے گنگوہ علاقے میں ایک شیو مندر کے کچھ حصے کو توڑے جانے کے بعد اقرا حسن کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ چھاپور گاؤں میں انہیں ’ملی‘ اور ’دہشت گرد‘ کہہ کر بے عزت کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوبارہ اسی علاقے میں آئیں تاکہ عوام کے درمیان کھل کر اپنی بات رکھ سکیں۔ انہوں نے گاؤں کے لوگوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ کسی بھی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانا انتہائی افسوسناک اور ناقابل برداشت عمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن لوگوں کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے ان کی انہوں نے کبھی حمایت نہیں کی اور نہ ہی کسی کے حق میں کوئی سفارش کی۔ اقرا حسن نے کہا کہ اگر کسی اور کی ملوث ہونے کی بات سامنے آئے تو اسے بھی سخت سزا دی جانی چاہیے۔

سماج کو توڑنے کی سازش

اقرا حسن نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہر کسی کو احتجاج کا حق ہے، مگر جس طرح مذہب، برادری اور عورتوں کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا گیا وہ سماج کو توڑنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ ہر مذہب اور ذات کے لوگوں نے انہیں اپنی بیٹی اور بہن سمجھ کر ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا ’’اب جو گالیاں دی گئی ہیں، وہ صرف میرا نہیں، اس خطے کی ہر عورت کی توہین ہے،‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سیاست نہیں بلکہ سماج کی بات کرنے آئی ہیں۔

’میں دب کر سیاست نہیں کروں گی‘

اقرا حسن نے کہا کہ کچھ عناصر مذہب کے نام پر نفرت پھیلا رہے ہیں اور وہ ایسی سیاست کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے انہیں گاؤں نہ جانے کا مشورہ دیا تھا، لیکن انہوں نے دو ٹوک کہا کہ ’’یہ میرا علاقہ ہے، میں اپنے لوگوں کے درمیان ضرور جاؤں گی۔‘‘ انہوں نے ایک سابق رکن پارلیمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے اس حامی کے بیان کی مذمت کرنی چاہیے جس نے انہیں ’دہشت گرد‘ اور ’ملی‘ کہا تھا۔ آخر میں اقرا حسن نے کہا ’’میں دب کر سیاست نہیں کروں گی اور جو لوگ سماج کو بانٹنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں کبھی نہیں چھوڑوں گی۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Assault Viral Video: قانون کا خوف ختم؟ اوور ریٹنگ کی مخالفت پر نوجوان کو بے رحمی سے پیٹا، ویڈیو وائرل

میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…

24 minutes ago

Ishaan Anand New Coordinator of BSP: آکاش آنند کے بعد اب کون؟ مایاوتی نے 27 سالہ ’نئے چہرے‘ ایشان آنند کو سونپی بسپا کی اہم ذمہ داری

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…

46 minutes ago

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

3 hours ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

3 hours ago