کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی۔
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے جمعہ کے روز دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں ’بھاگیداری نیائے سمیلن‘ سے خطاب کرتے ہوئے بڑا بیان دیا۔ انہوں نے او بی سی طبقے کے مفادات کے تئیں اپنی وابستگی کو دوہرایا، لیکن یہ بھی تسلیم کیا کہ جس طرح انہیں اور کانگریس کو اس طبقے کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا، وہ کام اس طریقے سے نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ او بی سی کے مدعے کو گہرائی سے سمجھتے ہیں اور ان کے مفادات کو یقینی بنانے کے لئے کام کریں گے۔
’’اچھے نمبر ملنے چاہئیں، میں نے اچھا کام کیا‘‘
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ’’میں 2004 سے سیاست میں ہوں اور مجھے 21 سال ہو چکے ہیں، جب میں پیچھے دیکھتا ہوں اور اپنا محاسبہ کرتا ہوں، میں نے کہاں کہاں صحیح کام کیا اور کہاں کمی رہی، تو دو تین بڑے مدعے دکھائی دیتے ہیں، جیسے لینڈ ایکویزیشن بل، منریگا، کھانے کا حق، قبائلی بل، نیامگیری کے لیے جدوجہد، یہ سارے کام میں صحیح کیے۔ جہاں تک قبائلیوں، دلتوں اور خواتین کے مدعے کا تعلق ہے، مجھے وہاں اچھے نمبر ملنے چاہئیں۔ میں نے اچھا کام کیا۔
’’کانگریس اور میرے کام میں ایک کمی رہ گئی‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ تھوڑا پیچھے دیکھتا ہوں تو ایک بات بالکل واضح دکھائی دیتی ہے کہ ایک موضوع پر مجھسے کمی رہی۔ کانگریس پارٹی اور میرے کام میں ایک کمی رہ گئی، مجھے او بی سی طبقے کی جس طرح سے حفاظت کرنا تھی، میں نے نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے اس وقت او بی سی کے مدعے اس وقت گہرائی سے نہیں سمجھ آئے۔ میں اسٹیج سے کہتا ہوں کہ 10-15 سال پہلے میں دلتوں کے سامنے جو مشکلیں تھیں، وہ مجھے اچھی طرح سمجھ آ گئی تھیں۔ ان کے مدعے سامنے ہیں، وہ آسانی سے سمجھ آ جاتے ہیں، لیکن او بی سی کی مشکلیں چھپی رہتی ہیں۔ مجھے اگر آپ کے مدعوں اور پریشانیوں کے بارے میں اس وقت پتہ ہوتا تو میں اسی وقت ذات پات کی مردم شماری کروا دیتا۔ وہ میری غلطی ہے، جسے میں ٹھیک کرنے جا رہا ہوں۔ حالانکہ، یہ ایک طرح سے اچھا ہی ہوا، کیونکہ اگر اس وقت میں نے ذات پات کی مردم شماری کروا دیتا تو وہ آج کی طرح نہ ہوتا۔
’’ملک کی 90 فیصد آبادی ہی پروڈکٹیو فورس‘‘
’بھاگیداری نیائے سمیلن‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں دلت، پسماندہ، قبائلی، اقلیتی طبقے کی آبادی تقریباً 90 فیصد ہے۔ لیکن بجٹ بننے کے بعد جب حلوہ تقسیم کیا جا رہا تھا تو وہاں 90 فیصد کی آبادی کا کوئی نہیں تھا۔ ملک کی 90 فیصد کی آبادی ہی پروڈکٹیو فورس ہے۔ حلوہ بنانے والے لوگ آپ ہیں لیکن حلوہ وہ کھا رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ حلوہ وہ نہ کھائیں، لیکن کم از کم آپ کو بھی تو ملے۔
بھارت ایکسپریس۔
غازی آباد کے سن سٹی میں چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی پر مبنی عظیم تاریخی…
مہاراشٹر کی قبائلی برادریوں کے شہد، دستکاری، بانس کی مصنوعات اور روایتی فن کو قومی…
ممبئی، 26 اکتوبر (آئی اے این ایس): کامیڈی کی دنیا میں کچھ فنکار ایسے ہوتے…
بیٹیوں کو گھر سے باہر بھیجنے سے پہلے خاندانوں کے ذہن میں ان کی حفاظت…
الہ آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ آدھار کارڈ عمر کا ثبوت نہیں…
بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے لیے عدالت سخت، لڑکے کی عمر کم از…