قومی

Elections 2027 a challenge for BSP: برہمن چہروں کی کمی کے درمیان 2027 میں بی ایس پی کیسے دوبارہ بنائے گی سوشل انجینئرنگ کا فارمولہ؟

نئی دہلی: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے 2007 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں دلت-برہمن اتحاد کے ذریعے اقتدار حاصل کیا تھا۔ تاہم 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی کے سامنے اس سماجی اتحاد کو دوبارہ مضبوط کرنے کی بڑی چیلنج موجود ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں بی ایس پی کے کئی اہم برہمن چہرے پارٹی سے الگ ہوچکے ہیں یا انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ مایاوتی پرانے چہروں کی غیر موجودگی کے باوجود برہمن سماج اور دیگر سماجی گروہوں کو ساتھ لے کر نیا سوشل انجینئرنگ فارمولا کیسے تیار کریں گی۔

برہمن ووٹروں کا کردار رہا ہے اہم

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 2007 میں بی ایس پی کی اقتدار میں واپسی میں برہمن ووٹروں کے ایک بڑے طبقے کی حمایت کا اہم کردار تھا۔ اس وقت پارٹی نے اپنے دلت ووٹ بینک کے ساتھ برہمن سماج کو جوڑ کر ایک وسیع سماجی اتحاد تشکیل دیا تھا۔ اب پارٹی کے سامنے چیلنج صرف نئے برہمن چہروں کو آگے بڑھانے کا نہیں، بلکہ سماج کے درمیان پرانے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنے کا بھی ہے۔ سینئر سیاسی تجزیہ کار ویریندر سنگھ راوت کا کہنا ہے کہ اس وقت بی ایس پی کے سامنے کارکنوں اور حامیوں کے درمیان اعتماد برقرار رکھنے کا چیلنج ہے۔ حال ہی میں اننت کمار مشرا عرف انٹو مشرا کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔ اس سے پہلے راکیش دھر ترپاٹھی، رنگ ناتھ مشرا، رامو دویدی، کشل تیواری، ونئے شنکر تیواری، برجیش پاٹھک اور گڈو ترپاٹھی جیسے کئی اہم برہمن چہرے بی ایس پی سے الگ ہوچکے ہیں۔ رام ویر اپادھیائے کا خاندان بھی بی ایس پی کی سیاست میں فعال رہا ہے۔ ان میں سے کئی رہنما بعد میں دیگر سیاسی جماعتوں میں اہم کردار ادا کرتے نظر آئے، جبکہ کچھ کو وزارت کی ذمہ داری بھی ملی۔

ستیش چندر مشرا اب بھی پارٹی کا اہم برہمن چہرہ

تجزیہ کار ویریندر سنگھ راوت کے مطابق موجودہ وقت میں ستیش چندر مشرا بی ایس پی کے اہم برہمن چہرے کے طور پر پارٹی کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں 2027 میں اقتدار کی دعویداری کے لیے مایاوتی کو صرف برہمن سماج ہی نہیں، بلکہ مختلف سماجی گروہوں کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے پارٹی کی تنظیم کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ برہمن تنظیم سے وابستہ ابھیشیک پانڈے کا کہنا ہے کہ اتر پردیش میں برہمن ووٹروں کی تعداد انتخابی سیاست میں اہم ہے۔ کئی اسمبلی حلقوں میں یہ برادری انتخابی مقابلے کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں رہتی ہے۔ ایسے میں 2027 کے انتخابات سے پہلے برہمن سماج کی حمایت حاصل کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کی وسیع سماجی اتحاد کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہوسکتا ہے۔

مایاوتی نے مخالفین پر کیا کہا؟

تاہم مایاوتی کا کہنا ہے کہ پارٹی سے نکالے گئے یا ذاتی مفادات کے باعث دوسری جماعتوں میں جانے والے رہنماؤں کی سیاسی وابستگی کا اندازہ ان کے کاموں کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کئی لوگوں نے بی ایس پی حکومت کے دوران بھی اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کو ترجیح دی اور پارٹی و سماج کے مفاد میں مطلوبہ سرگرمی نہیں دکھائی۔ مایاوتی نے یہ بھی کہا کہ پارٹی میں طویل عرصے سے ایماندار اور وفادار سینئر رہنما نئے محنتی اور وقف کارکنوں، خاص طور پر نوجوانوں کو تیار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کی یہ ’نرسری‘ مسلسل جاری ہے اور نئے لوگوں کو تنظیم میں آگے بڑھانے کا کام کیا جا رہا ہے۔

اننت مشرا نے قیادت کو خود احتسابی کا مشورہ دیا

بی ایس پی سے نکالے گئے اننت مشرا نے کہا کہ 2007 میں برہمن سماج کو بی ایس پی سے جوڑنے میں ستیش مشرا کی شخصیت، مایاوتی کے تئیں سماج کے اعتماد اور زمینی سطح کے کارکنوں کی محنت نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت برہمن سماج کو عزت اور سیاسی شراکت داری کا واضح پیغام ملا تھا۔ پارٹی کی سیاسی کارکردگی میں مسلسل گراوٹ کے پیش نظر قیادت کو خود احتسابی کرنی چاہیے۔ اننت مشرا نے کہا کہ اب وہ اپنے حامیوں اور کارکنوں کے درمیان جاکر ان کی رائے لیں گے اور ان کے مشوروں کی بنیاد پر مستقبل کی حکمت عملی طے کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Maulana Arshad Madani on UCC: یو سی سی پر مولانا ارشد مدنی نے اٹھائے سوال، کہا- ملک آئین سے چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے سے؟

مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…

22 minutes ago

UPI Charge Rule: یو پی آئی کے نئے قواعد، کس سے، کب، کتنا اور کہاں وصول کیا جائے گا چارج؟

حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…

23 minutes ago

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

3 hours ago