قومی

BMC Horse Trading Politics: کنگ میکر کو کھیلا کا ڈر! ایکناتھ شندے کا ’بی ایم سی نو رسک‘ پلان ایکٹیو، ممبئی میں ریزورٹ سیاست کی واپسی

ممبئی: برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتخابات کے نتائج آتے ہی ملک کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کے باعث جوڑ توڑ کی سیاست نے زور پکڑ لیا ہے۔ ایسے ماحول میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے ایک بار پھر ’کنگ میکر‘ کے کردار میں سامنے آئے ہیں۔ ممکنہ ہارس ٹریڈنگ کے خدشے کو دیکھتے ہوئے شندے گروپ نے اپنے تمام نو منتخب کونسلرز کو ایک ہی جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ممبئی میں ریزورٹ سیاست کی واپسی کی بحث تیز ہو گئی ہے۔

سیاسی ذرائع کے مطابق شندے دھڑے کی شیوسینا نے اپنے تمام منتخب کونسلرز کو باندرہ کے مشہور و پرتعیش تاج لینڈز اینڈ ہوٹل میں ٹھہرا دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ تمام کونسلرز دوپہر تین بجے تک ہر حال میں ہوٹل پہنچ جائیں۔ حکمت عملی کے تحت انہیں کم از کم تین دن تک وہیں رکھا جائے گا، تاکہ میئر انتخاب اور اتحاد سے متعلق مذاکرات مکمل ہونے تک کوئی رکن دوسرے سیاسی پارٹی کے رابطے میں نہ آ سکے۔ اس پوری مشق کی براہ راست نگرانی خود نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کر رہے ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شندے اس معاملے میں کوئی بھی رسک لینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ عددی طاقت کو متحد رکھنا ہی اس وقت سب سے بڑی سیاسی طاقت ہے، کیونکہ بی ایم سی میں اقتدار کی کنجی انہی کے ہاتھ میں ہے۔

بی ایم سی انتخابات میں شندے گروپ نے 29 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اگرچہ بی جے پی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، لیکن وہ اپنے بل بوتے پر اکثریت کا ہندسہ پار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایسے میں شندے گروپ کی حمایت کے بغیر میونسپل کارپوریشن میں حکومت بنانا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ شندے گروپ اپنی طاقت برقرار رکھتے ہوئے اپنی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔

ادھر اس ’ریزورٹ سیاست‘ پر کانگریس نے طنز کے تیر چلائے ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان ناصر حسین نے کہا کہ شندے کو آخر کس بات کا ڈر ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک میں اراکین توڑنے کا سب سے زیادہ تجربہ کس جماعت کے پاس ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ ان کا اشارہ بی جے پی کی جانب تھا، جس پر اکثر اتحادیوں کو کمزور کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ فی الحال بی ایم سی کی سیاست ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اقتدار کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں بلکہ ہوٹل کے بند کمروں میں ہونے والی ملاقاتوں میں طے ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں ہر قدم ناپ تول کر رکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

11 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

13 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

13 hours ago