دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور ایل جی وی کے سکسینہ۔ (فائل فوٹو)
صدر جمہوریہ نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنروی کے سکسینہ کے اختیارات میں اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے اب دہلی کے کسی بھی اتھارٹی، بورڈ، کمیشن اورقانونی ادارے میں ممبربنانے اوران کی تقرری کا اختیارمل گیا ہے۔ حکومت نے اپنا گزٹ بھی جاری کردیا ہے۔
دہلی حکومت اورلیفٹیننٹ گورنروی کے سکسینہ کے درمیان حقوق سے متعلق لمبے وقت سے رسہ کشی چل رہی ہے۔ مسلسل دہلی حکومت کی طرف سے ایل جی پرسنگین الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ ایک دن پہلے ہی دہلی کی عام آدمی پارٹی حکومت نے لیفٹیننٹ گورنرپرٹیکس دہندگان (ٹیکس پیئرس) کا پیسہ غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اب حکومت کی طرف سے ایل جی کومزید اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔
دہلی کے ایل جی کو کیا ملا اختیار؟
وزارت داخلہ کے جاری کردہ گزٹ کے مطابق، اب دہلی کے لیفٹیننٹ گورنرکوکسی بھی اتھارٹی، بورڈ، کمیشن یا کسی بھی قانونی ادارے کی تشکیل کا اختیارحاصل ہوگا۔ اس کی وجہ سے وہ کسی بھی سرکاری افسریا سابقہ رکن کوایسے کسی اتھارٹی بورڈ، کمیشن اورباڈی میں تعینات کرسکیں گے۔ اس کے لئے انہیں حکومت کی قومی دارالحکومت علاقہ دہلی ایکٹ کی دفعہ 45 کے تحت صدرجمہوریہ کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
ایل جی اوردہلی حکومت میں بڑھے گی تکرار
لیفٹیننٹ گورنرکے اختیارات میں اضافہ سے دہلی میں لیفٹیننٹ گورنراورحکومت کے درمیان تنازع ایک بارپھربڑھ سکتا ہے۔ دراصل حکومت اورایل جی کی دشمنی پرانی ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے جاری تنازعہ میں یہ مسئلہ ہمیشہ رہا ہے کہ دہلی میں کس کے پاس زیادہ اختیارہے۔ اس حوالے سے مرکزی حکومت کی جانب سے ایک آرڈیننس بھی لایا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایل جی اورسی ایم کے پاس کیا اختیارات ہیں۔ بعد میں سپریم کورٹ نے دہلی کے وزیراعلیٰ کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس کے بعد صدرنے گزشتہ سال دہلی حکومت (ترمیمی) بل 2023 کومنظوری دی تھی۔ وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے اس کی مخالفت کی تھی۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…
وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…
ڈاکٹر کا الزام ہے کہ فلیٹ میں اتولیا سمیت 12 افراد موجود تھے۔ جیسے ہی…
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…
یو پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ انٹرویو کی تاریخ یا وقت میں…
وزیراعظم مودی کے نام لکھے گئے خط میں ماہر تعلیم اور ممتاز دانشور پروفیسر اخترالواسع…