قومی

Amit Shah Bengal Rally: مغربی بنگال: انتخابی ریلی میں امت شاہ کی سخت وارننگ، بدامنی پھیلانے والوں کو گھر میں رہنے کا مشورہ

مغربی بنگال کی سیاست ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے جہاں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بیر بھوم ضلع کے بولپور میں ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حکمراں جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پر شدید تنقید کی اور بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ریاست میں سامنے آنے والے تقریباً ہر بڑے گھوٹالے میں ٹی ایم سی کے لیڈروں کا نام شامل رہا ہے، جس سے عوام کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے۔ امت شاہ نے مختلف مبینہ گھوٹالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیش فار کوئری، کیش فار جاب، مویشی اسمگلنگ اور کوئلہ گھوٹالے جیسے معاملات میں ٹی ایم سی کے افراد کا نام بار بار سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے عوام اب اس طرز حکمرانی سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آنے والے انتخابات میں عوام اپنا فیصلہ سنانے کے لیے تیار ہیں اور اس بار شفافیت اور ترقی کو ترجیح دینے والی حکومت کو منتخب کریں گے۔

اپنے خطاب کے دوران امت شاہ نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار ملا تو ریاست میں اس قانون کو نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے اسے سماجی مساوات کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے معاشرے میں یکسانیت پیدا ہوگی۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بناتے ہوئے شاہ نے خواتین کی سلامتی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ ایک خاتون وزیر اعلیٰ کے ہوتے ہوئے بھی ریاست میں خواتین خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق حالات ایسے ہیں کہ خواتین کو رات کے وقت باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

ریلی کے اختتام پر امت شاہ نے انتخابی عمل کے دوران کسی بھی قسم کی بدامنی یا دھاندلی پر سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 23 اور 29 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ کے دوران اگر کسی نے خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے ایسے عناصر ووٹنگ کے دن گھروں میں ہی رہیں، ورنہ قانون اپنا کام ضرور کرے گا۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے اور دونوں پارٹیاں بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں خواتین کی سلامتی، سرحدی امور، بے روزگاری اور فرقہ وارانہ سیاست جیسے مسائل انتخابی مباحثے کا مرکز بن چکے ہیں، جن پر آئندہ دنوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

UP SIR: یوپی میں ایس آئی آر کے بعد بھی ایک ووٹر کے نام پر چار چار ووٹر کارڈ! کیسے بن رہے ڈپلیکیٹ کارڈ؟

اتر پردیش میں ایس آئی آر مہم کے ذریعے 2.04 کروڑ سے زائد ووٹروں کے…

26 minutes ago

Neha Bora Move Delhi HC: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا دہلی ہائی کورٹ پہنچیں، پولیس پر لگائے سنگین الزامات

دہلی پولیس کے بانڈ نوٹس کو نیہا بورا نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، رہائی…

1 hour ago

Congress rejects ‘regime change’ allegations: ’’ہندوستان نہ بنگلہ دیش ہے، نہ فرانس‘‘ کانگریس نے اقتدار کی تبدیلی کی سازش کے الزامات  کیے مسترد

ششی تھرور نے کہا کہ اپوزیشن کا مطالبہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا ہے، تشدد…

2 hours ago

Delhi Protests Business Losses: ووٹ چوری کے خلاف مظاہروں سے دہلی کے کاروبار کو 3000 کروڑ روپے کا نقصان، سی ٹی آئی نے حکومت سے کیا یہ مطالبہ

دہلی کے 700 سے زیادہ بازاروں میں کاروبار متاثر ہونے کا دعویٰ، ووٹ چوری معاملے…

2 hours ago