نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں بائیں بازو کی انتہاپسندی کے خاتمے سے متعلق جاری بحث کے دوران کہا کہ ملک میں 1970 سے 2004 کے درمیان نکسل واد نے تیزی سے جڑیں پکڑیں اور اس عرصے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو مکمل طور پر نکسل واد سے پاک بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے سیکورٹی اور ترقی دونوں محاذوں پر کام جاری ہے۔ وزیر داخلہ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نکسلی عناصر نے کبھی بھی قبائلی لیڈروں جیسے تِلکا مانجھی، بھگوان برسا منڈا، بھگت سنگھ یا سبھاش چندر بوس کو اپنا آئیڈیل نہیں مانا۔ انہوں نے کہا کہ نکسلی عناصر اپنے نظریاتی لیڈروں کے طور پر غیر ملکی لیڈروں کو اپناتے رہے ہیں اور خاص طور پر ماؤ کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ نکسل واد کی جڑیں مقامی مسائل میں نہیں بلکہ بیرونی نظریات میں پیوست ہیں۔
امت شاہ نے کہا کہ بھارت ایک مضبوط جمہوری ملک ہے اور یہاں آئین کی حکمرانی قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی دھمکی کے آگے جھکنے والی نہیں ہے اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے یا ترقی میں کمی رہتی ہے تو اس کے حل کے لیے آئینی راستے موجود ہیں، لیکن ہتھیار اٹھا کر بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1969 میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی تشکیل ہوئی، جس کا مقصد پارلیمانی نظام کی مخالفت اور مسلح جدوجہد کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس نظریے کو چین اور روس کی مثالوں سے متاثر ہو کر اپنایا گیا، جبکہ بھارت میں پہلے ہی جمہوری نظام قائم تھا، اس لیے اس طرح کی مسلح تحریک کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ 1947 سے پہلے قبائلی علاقوں میں لوگ برسا منڈا، تِلکا مانجھی، رانی درگاوتی اور دیگر مقامی لیڈروں کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے، لیکن 1970 کے بعد اچانک ماؤ جیسے غیر ملکی نظریاتی لیڈر ان کے ہیرو بن گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ تبدیلی کیوں آئی اور اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بائیں بازو کی انتہاپسند تنظیموں نے دشوار گزار علاقوں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے چنا اور سادہ لوح قبائلی عوام کو گمراہ کیا۔ امت شاہ نے کہا کہ نکسل واد غربت کی وجہ سے نہیں پھیلا بلکہ نکسل واد کے باعث ہی ان علاقوں میں ترقی رکی اور غربت برقرار رہی۔ انہوں نے کہا کہ نکسل واد ایک نظریاتی مسئلہ ہے جسے طاقت کے ذریعے مسلط کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے نظریات کو برداشت نہیں کرے گی جو جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کریں۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ 1970 کی دہائی میں مغربی بنگال کے نکسلباڑی علاقے سے نکسلی تحریک کا آغاز ہوا اور 1971 میں صرف ایک سال کے دوران 3620 تشدد کے واقعات پیش آئے۔ بعد ازاں 1980 کی دہائی میں پیپلز وار گروپ تشکیل دیا گیا، جس کے بعد یہ تحریک مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور اڈیشہ سمیت مختلف ریاستوں تک پھیل گئی۔ امت شاہ نے کہا کہ 1970 سے 2004 کے درمیان زیادہ تر عرصہ کانگریس کی حکومت رہی اور اس دوران نکسل واد کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی پس منظر کو یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ترقیاتی منصوبوں، سیکورٹی فورسز کی مضبوطی اور مقامی آبادی کی شمولیت کے ذریعے نکسل واد کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف تشدد کا خاتمہ نہیں بلکہ متاثرہ علاقوں میں دیرپا امن اور ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اسکیم نے علاج کے اخراجات میں ریکارڈ بچت کو…
امت شاہ نے ’’ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029‘‘ کو منشیات کے خطرے کے خلاف جنگ میں شامل…
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم…
پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…