نئی دہلی، 28 اکتوبر: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ناگالینڈ کے سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے متاثرہ افراد کے لیے 20 کروڑ روپے کی امداد منظور کر دی ہے۔ یہ رقم مالی سال 2025–26 کے لیے ریاستی آفات سے نمٹنے کے فنڈ کے مرکزی حصے کی دوسری قسط کے طور پر پیشگی جاری کی گئی ہے۔ وزارتِ داخلہ نے منگل کو اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ فنڈ ریاست میں جاری راحت اور بحالی کے کاموں کو مضبوط کرنے کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ وزارت کے سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ”وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور وزیر داخلہ امت شاہ کی رہنمائی میں حکومتِ ہند ہر قدرتی آفت کے دوران ریاستی حکومتوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے“۔
ناگالینڈ میں شدید بارش اور تباہی
اس سال جنوب مغربی مانسون کے دوران ناگالینڈ میں شدید بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈز نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ درجنوں دیہات متاثر ہوئے، سڑکیں اور پل بہہ گئے، جبکہ متعدد خاندان بے گھر ہو گئے۔ مرکزی حکومت کے مطابق، یہ امداد فوری طور پر ان علاقوں میں راحت رسانی، رہائش کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے لیے استعمال کی جائے گی۔
ریاستی آفات سے نمٹنے کا فنڈ
ایس ڈی آر ایف ریاستی سطح پر قدرتی آفات کے خلاف پہلی دفاعی لائن کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس فنڈ کے ذریعے ریاستی حکومتیں ہنگامی حالات میں فوری راحت اور امدادی کارروائیاں انجام دیتی ہیں۔ مرکز ہر سال اس فنڈ میں نمایاں حصہ فراہم کرتا ہے تاکہ آفات کے بعد بروقت مدد یقینی بنائی جا سکے۔ مالی سال 2025–26 کے دوران، مرکزی حکومت نے 27 ریاستوں کو ایس ڈی آر ایف کے تحت 15,554 کروڑ روپے اور 15 ریاستوں کو نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ کے تحت 2,267.44 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، 21 ریاستوں کو اسٹیٹ ڈیزاسٹر مٹیگیشن فنڈ سے 4,571.30 کروڑ روپے اور نو ریاستوں کو نیشنل ڈیزاسٹر مٹیگیشن فنڈ سے 372.09 کروڑ روپے فراہم کیے گئے تاکہ طویل مدتی آفات سے بچاؤ اور تیاری کے منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے۔
ملک گیر امدادی سرگرمیاں
مرکزی حکومت نے قدرتی آفات سے متاثرہ ریاستوں کو نہ صرف مالی بلکہ عملی سطح پر بھی بھرپور مدد فراہم کی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی ٹیموں، فوج اور فضائیہ کے جوانوں کو مختلف ریاستوں میں ریسکیو اور امدادی مشنوں کے لیے تعینات کیا گیا۔ اس سال کے مانسون سیزن میں ملک بھر میں 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 199 این ڈی آر ایف ٹیمیں تعینات کی گئیں، جو حالیہ برسوں کی سب سے بڑی مربوط امدادی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔ ان ٹیموں نے ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، ضروری اشیاء تقسیم کیں اور متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کاموں میں حصہ لیا۔
دیگر ریاستوں کو بھی امداد
اس سے قبل امت شاہ نے کرناٹک اور مہاراشٹر کے لیے 1,950.80 کروڑ روپے کی پیشگی امداد منظور کی تھی۔ اس میں کرناٹک کے لیے 384.40 کروڑ روپے اور مہاراشٹر کے لیے 1,566.40 کروڑ روپے شامل تھے، تاکہ شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری راحت فراہم کی جا سکے۔
مرکز کی مسلسل وابستگی
مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد قدرتی آفات سے نمٹنے کی ریاستی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور شہریوں کو بروقت مدد فراہم کرنا ہے۔ ناگالینڈ کے لیے جاری یہ تازہ امداد مرکز کے اسی عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کے ہر حصے میں آفات کے متاثرین تک فوری اور مؤثر مدد پہنچائی جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا، سماج وادی پارٹی کے لوگوں اور تمہارے…
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،…
مقامی لوگوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جب بھی…
سال 1564 میں جب آصف خان کی قیادت میں ایک بڑی مغل فوج نے گونڈوانا…
اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…
دوسری جانب ون ڈے سیریز میں بھارت کو سخت ٹکر دینے کے بعد ویسٹ انڈیز…