قومی

HM Amit Shah Paid Tribute: وزیر داخلہ امت شاہ نے ’ہندوی سوراج‘ کے عظیم لیڈر کو پیش کیا خراجِ عقیدت، بتایا کیوں آج بھی اہم ہے ان کی بحری حکمتِ عملی

بھارتی تاریخ کے صفحات میں جب بھی خودداری، جرات اور حکمتِ عملی کی بات آتی ہے تو چھترپتی شیواجی کا نام سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ آج ملک کے اس عظیم سپوت اور ’ہندوی سوراج‘ کے بانی کی برسی ہے۔ اس جذباتی اور باوقار موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے شیواجی مہاراج کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شاہ نے نہ صرف ان کی بہادری کو یاد کیا بلکہ یہ بھی اجاگر کیا کہ کس طرح صدیوں پہلے شیواجی مہاراج نے جدید بھارت کے دفاع اور حکمرانی کی بنیاد رکھ دی تھی۔

بھارتی خودداری کے لازوال نشان: امت شاہ

چھترپتی شیواجی مہاراج کی برسی کے اس خاص موقع پر وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں ان کی عظیم شخصیت کو یاد کیا۔ امت شاہ نے اپنے پیغام میں لکھا،’’بھارتی خودداری کے لازوال نشان اور قومی وقار کے محافظ چھترپتی شیواجی مہاراج کو یاد کرتے ہوئے ان کے قدموں میں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔‘‘

وزیر داخلہ نے مزید لکھا کہ مذہب اور ثقافت کے تحفظ کے لیے انہوں نے لوگوں کو متحد کیا اور ہندوی سوراج کی بنیاد رکھی۔ سمندر پر کنٹرول کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ان کی قائم کردہ مضبوط بحریہ ان کی بے مثال حکمتِ عملی اور دور اندیش قیادت کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک حکمران کس طرح بیک وقت اپنی ثقافت اور زبان کا تحفظ کر سکتا ہے اور عوامی فلاح کے اصول قائم کر سکتا ہے، شیواجی مہاراج اس کی بہترین مثال ہیں۔امت شاہ نے اپنے پیغام کے آخر میں کہا،’’ان کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے۔ ان کی مسلسل جدوجہد اور زندگی کی داستان ہمیشہ ملک کے عوام کو مادرِ وطن کے لیے قربانی دینے کی ترغیب دیتی رہے گی۔‘‘

’بھارتی بحریہ کے بانی‘

آج کے نوجوانوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب غیر ملکی حملہ آور سمندری راستے سے بھارت کو غلام بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے، تب شیواجی مہاراج نے اس خطرے کو بھانپ لیا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ ’’جس کا سمندر پر قبضہ ہوگا، وہی ملک پر حکمرانی کرے گا۔‘‘انہوں نے کونکن ساحل کے دفاع کے لیے بحری جہاز تیار کروائے اور سندھودرگ جیسے مضبوط سمندری قلعے تعمیر کروائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ’بھارتی بحریہ کا بانی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ آج کی جدید بھارتی بحریہ بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ملک کی سمندری سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے۔

ثقافت اور زبان کے محافظ

شیواجی مہاراج صرف ایک جنگجو نہیں بلکہ ایک بہترین منتظم بھی تھے۔ وہ اپنی ثقافت اور زبان کے مضبوط حامی تھے۔ مغل اثر و رسوخ کے باوجود انہوں نے انتظامی امور میں مراٹھی اور سنسکرت زبان کے استعمال کو فروغ دیا۔ انہوں نے ’راجیہ ویوہار کوش‘ جیسی لغت تیار کروائی تاکہ غیر ملکی الفاظ کے اثر کو کم کیا جا سکے۔

عوامی فلاحی حکمرانی

شیواجی مہاراج کا ’ہندوی سوراج‘ کسی ایک مذہب یا ذات کے لیے نہیں تھا بلکہ ہر اس شخص کے لیے تھا جو اپنی سرزمین سے محبت کرتا تھا۔ انہوں نے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا اور خواتین کے احترام کے لیے سخت قوانین نافذ کیے۔ ان کی حکمرانی عوامی فلاح اور انصاف پر مبنی تھی، جو آج بھی حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

5 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

5 hours ago