قومی

Free Trade Agreement between India and the EU: بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ہونے جا رہا ہے تاریخی فری ٹریڈ معاہدہ، پی ایم مودی کریں گے میزبانی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی منگل کے روز قومی دارالحکومت نئی دہلی میں 16ویں بھارت-یورپی یونین (ای یو) سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گے، جس میں یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا بھارت اور یورپی یونین کے درمیان اب تک کے سب سے بڑے تجارتی معاہدے کا اعلان کریں گے۔ اس معاہدے کو ’سبھی سمجھوتوں کی جننی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

وزارتِ تجارت کے سکریٹری راجیش اگروال کے مطابق، بھارت اور یورپی یونین کے درمیان طویل عرصے سے جاری آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر بات چیت مکمل ہو چکی ہے۔ اس معاہدے کی باضابطہ تکمیل کا اعلان 16ویں بھارت-ای یو سربراہی اجلاس میں کیا جائے گا۔ یہ سربراہی اجلاس بھارت اور یورپی یونین کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع ہوگا۔ اس کے تحت تجارت، سلامتی اور دفاع، صاف توانائی اور عوامی روابط جیسے اہم شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

حکام کے مطابق، معاہدے پر قانونی جانچ (لیگل اسکرَبنگ) کے بعد تقریباً چھ ماہ کے اندر دستخط کیے جائیں گے، جس کے بعد توقع ہے کہ یہ معاہدہ اگلے سال سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ گزشتہ چند برسوں میں بھارت اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت تیزی دیکھنے کو ملی ہے، اور اسی سازگار ماحول میں اس سربراہی اجلاس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

راجیش اگروال نے اس معاہدے کو متوازن اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھنے والا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافہ ہوگا اور تجارت و سرمایہ کاری کو نئی رفتار ملے گی۔

بھارت-ای یو فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو بھارت کے عالمی تجارت کو فروغ دینے کی سمت ایک بڑا قدم مانا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ امریکہ کی جانب سے عائد بلند ٹیرف کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے یورپی منڈی میں بھارتی مصنوعات کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور زیورات جیسے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

اس معاہدے کا نمایاں اثر آٹوموبائل شعبے پر بھی پڑے گا۔ اس کے تحت یورپی کار کمپنیوں کے لیے بھارتی بازار مزید کھولا جائے گا۔ فی الحال یورپی گاڑیوں پر بھارت میں 110 فیصد درآمدی محصول عائد ہے، جسے گھٹا کر تقریباً 40 فیصد کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ووکس ویگن، مرسڈیز بینز اور بی ایم ڈبلیو جیسی کمپنیوں کی گاڑیاں بھارت میں سستی ہو سکتی ہیں۔

اس وقت بھارت میں سالانہ فروخت ہونے والی 44 لاکھ گاڑیوں میں یورپی کمپنیوں کی حصہ داری محض 4 فیصد ہے۔ یورپی یونین پہلے ہی بھارت کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ بھارت کی مجموعی برآمدات میں ای یو کی حصہ داری تقریباً 17 فیصد ہے، جبکہ یورپی یونین کی مجموعی بیرونی برآمدات میں بھارت کا حصہ قریب 9 فیصد ہے۔

مالی سال 2024-25 میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان اشیا کی مجموعی تجارت 136.53 ارب ڈالر رہی، جس میں بھارت کی برآمدات 75.85 ارب ڈالر اور درآمدات 60.68 ارب ڈالر رہیں۔ اس طرح یورپی یونین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔ اس کے علاوہ، دونوں کے درمیان خدمات کا تجارتی حجم بھی 2024 میں بڑھ کر 83.10 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Protest in Delhi: راہل گاندھی کا الگ ہی انداز ہے ، اکھلیش حراست میں، الیکشن کمیشن کے دفتر پر اپوزیشن کا زبردست احتجاج

پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب بڑھ رہے اپوزیشن کے مارچ کو…

19 minutes ago

Francis Halzen Awarded Nobel Prize in Physics: فرانسس ہالزن کو فزکس کا نوبیل انعام، کائنات کے پراسرار ذرات کی دریافت پر اعزاز

نوبیل انعام کے فاتحین کو دسمبر میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں اعزاز سے…

31 minutes ago

Rahul Gandhi: آکاشوانی بھون میں 2 گھنٹے سے دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، بولے- ہمیں کیوں روکا؟

انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن…

60 minutes ago

Drishyam 3: انہیں کسی اور ٹیک کی ضرورت نہیں پڑتی، شریا سرن نے ’دریشیم 3‘ کے ساتھی اداکار اجے دیوگن کی تعریف کی

اداکارہ نے فلم کے ہدایت کار ابھشیک پاٹھک کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا،…

2 hours ago

Jantar Mantar Protest: انڈیا اتحاد کے احتجاج کے دوران ہنگامہ، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی دھرنے پر بیٹھے

انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار سے مارچ شروع کیا تھا۔…

2 hours ago