ہندوجا گروپ کے چیئرمین گوپی چند ہندوجا نے 85 سال کی عمر میں دنیا کو الوداع کہہ دیا۔
Gopichand Hinduja: ہندوجا گروپ کے چیئرمین گوپی چند پرمانند ہندوجا نے 85 سال کی عمر میں دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ انہوں نے لندن کے ایک اسپتال میں آخری سانس لی۔ برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ رامی رینجر نے یہ مایوس کن اطلاع دی۔ رکن پارلیمنٹ رامی رینجر نے اپنے بیان میں کہا، ”پیارے دوستو، میں بہت مایوسی کے ساتھ مطلع کررہا ہوں کہ ہمارے پیارے دوست گوپی چند ہندوجا دنیا سے رخصت ہوگئے۔ وہ بہت ہی عاجز، مہربان اوروفادار دوست تھے۔ ان کا انتقال ایک دورکے خاتمے کی علامت ہے۔“
بہرحال، سوشل میڈیا پر لوگ گوپی چند پرمانند ہندوجا کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔ حالانکہ ان کی فیملی نے ابھی تک ان کی رحلت کی وجوہات سے متعلق انکشاف نہیں کیا ہے۔ گوپی چند کے بڑے بھائی شری چند ہندوجا بھی 2023 میں دنیا سے رخصت ہوگئے تھے، جس کے بعد وہ گروپ کے چیئرمین بنے تھے۔
لندن میں ہوگی آخری رسوم کی ادائیگی
ہندوجا فیملی نے کہا، ”گوپی چند ہندوجا نے پوری زندگی کمیونٹی کی خدمت اورہندوستان کے تئیں اپنی عقیدت کا مظاہرہ کرنے کے لیے وقف کردیا۔ ان کی حس مزاح، انسان دوستی اور قیادت بے مثال تھی۔ ہم ان کی کمی محسوس کریں گے۔ اوم شانتی۔“ ان کی اہلیہ سنیتا ہندوجا، بیٹے سنجے اوردھیرج اوربیٹی ریتا ان کی موت پرسوگ منا رہے ہیں۔ اہل خانہ نے لندن میں آخری رسوم کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
ابتدائی زندگی اور جدوجہد
29 جنوری 1940 کو بمبئی (اب ممبئی) میں پیدا ہوئے، گوپی چند کا تعلق سندھی خاندان سے تھا۔ ان کے والد پرمانند دیپ چند ہندوجا نے 1914 میں کاروبارشروع کیا۔ تقسیم کے بعد یہ خاندان ممبئی منتقل ہوگیا۔ گوپی چند نے جے ہند کالج سے گریجویشن کیا۔ 1950 میں، انہوں نے ایران میں اپنے والد کے ساتھ مل کرپیاز، آلواور لوہے کی تجارت کی، جس میں ابتدائی کامیابی ملی۔
ایک عالمی سلطنت کی تعمیر
ہندوجا نے 1980 میں اشوک لیلینڈ اورگلف آئل حاصل کیا تھا۔ 1990 میں، انہوں نے سوئٹزرلینڈ اورہندوستان میں بینک قائم کئے۔ یہ گروپ اب آٹوموٹیو، بینکنگ (انڈس انڈ بینک)، آئی ٹی، ہیلتھ کیئر، رئیل اسٹیٹ اورمیڈیا تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے 38 ممالک میں تقریباً 200,000 ملازمین ہیں۔ 2025 سنڈے ٹائمزکی امیروں کی فہرست میں اس خاندان کی دولت کا تخمینہ 35.3 بلین تھا، جس سے ہندوجا خاندان برطانیہ کا امیرترین خاندان بن گیا۔
اعزازاورانسان دوستی
گوپی چند ہندوجا کو پدم بھوشن (2006) سے نوازا گیا اورویسٹ منسٹریونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کی۔ ہندوجا فاؤنڈیشن کے ذریعہ انہوں نے لاکھوں بچوں کی تعلیم اورصحت کی دیکھ بھال میں مدد کی۔ گوپی چند نے ہمیشہ کہا، “کمیونٹی سروس کاروبار سے زیادہ اہم ہے۔” ان کا انتقال عالمی کاروباری دنیا کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…