قومی

Hijab case: حجاب کھینچنے کے معاملے پرتنازعات میں بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار ، لکھنؤ میں ایف آئی آر درج، سیاسی لیڈروں کا سخت ردِعمل

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گئے ہیں۔ لکھنؤ کے قیصر باغ پولیس تھانے میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب ہٹانے کی کوشش کی۔ یہ معاملہ سماج وادی پارٹی کی لیڈر سمیہ رانا کی جانب سے درج کرایا گیا ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

پیر کے روز وزیر اعلیٰ نتیش کمار تقرری نامے تقسیم کرنے کی ایک تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ اس موقع پر ایک مسلم نوجوان خاتون تقرری نامہ لینے آئی تھی اور اس نے حجاب پہن رکھا تھا۔ اس دوران نتیش کمار نے تقرری نامہ دینے کے بعد اس کے چہرے سے حجاب ہٹانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ کیا ہے؟ اس واقعے کے بعد معاملہ شدت اختیار کر گیا اور اپوزیشن جماعتوں سمیت تمام لوگ نتیش کے اس قابل اعتراض عمل کی مذمت کر رہے ہیں۔

وزیر کا وضاحتی بیان

بہار کے اقلیتی فلاح و بہبود کے وزیر زماں خان نے وزیر اعلیٰ کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار نے اس نوجوان خاتون کے ساتھ ’’باپ جیسا‘‘ جذبے کے تحت برتاؤ کیا۔ خان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ اس خاتون کے والد سے بھی زیادہ عمر کے ہیں اور انہوں نے محبت و شفقت کے جذبے سے ایسا کیا۔ وزیر نے اس واقعے کو کسی غلط نیت سے جوڑنے سے انکار کیا۔

محبوبہ مفتی کی تنقید

جموں و کشمیر کی پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اس واقعے پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ نتیش کمار کو ذاتی طور پر جانتی ہیں اور ماضی میں ان کی تعریف بھی کر چکی ہیں، لیکن اس واقعے نے انہیں گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔ محبوبہ مفتی نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ بڑھتی عمر کا اثر ہے یا مسلمانوں کو سرِ عام ذلیل کرنا اب معمول بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ شاید اب نتیش کمار کے استعفے کا وقت آ گیا ہے۔

کُلگام سے رکن اسمبلی کا بیان

کُلگام سے مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی (ایم)) کے رکن اسمبلی ایم وائی تاریگامی نے بھی نتیش کمار کے اس عمل کو جمہوری اور آئینی اقدار کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہایت شرمناک ہے اور اسے ہرگز معمولی یا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حجاب سے متعلق معاملہ اب پوری طرح سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ ایک جانب وزیرِ اعلیٰ کے حامی اسے ’’باپ جیسا‘‘ جذبہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن اسے توہین آمیز اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دے رہی ہے۔ فی الحال یہ معاملہ خاصا گرمایا ہوا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

4 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

5 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

5 hours ago