نئی دہلی: دہلی کے درجنوں قدیم دیہاتوں اور 92 کالونیوں سے او-زون (O-Zone) ہٹانے کے مطالبے کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا، جس میں اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں جنوبی دہلی کے رکن پارلیمنٹ رام ویر سنگھ بدھوڑی، شمال مشرقی دہلی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری، چاندنی چوک کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال، یمناپار وکاس بورڈ کے چیئرمین اور رکن اسمبلی اروندر سنگھ لولی، دہلی کے چیف سکریٹری راجیو ورما، میونسپل کارپوریشن آف دہلی کے کمشنر سنجیو خیروار اور دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
پرانی آبادیوں میں انہدامی کارروائی کی اجازت نہیں
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے واضح کیا کہ جو دیہات اور کالونیاں اس وقت او-زون کے دائرے میں آتی ہیں، وہاں موجود پرانی اور آباد بستیوں میں کسی قسم کی انہدامی یا توڑ پھوڑ کی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ او-زون کے نام پر پہلے سے آباد علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بلاوجہ پریشان نہیں کیا جانا چاہیے۔ اجلاس میں یہ بھی وضاحت کی گئی کہ دہلی ہائی کورٹ کا حکم صرف نئی تعمیرات اور نئی تعمیراتی سرگرمیوں سے متعلق ہے، نہ کہ قدیم دیہاتوں یا پہلے سے موجود رہائشی آبادیوں کے خلاف کارروائی کے لیے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کے احکامات کی صحیح تشریح اور نفاذ ضروری ہے تاکہ مقامی باشندوں میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کیا جا سکے۔
مرکزی وزیر منوہر لال سے ملاقات کا فیصلہ
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ دہلی کے تمام متعلقہ ارکان پارلیمان وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں جلد ہی مرکزی وزیر برائے رہائش و شہری امور منوہر لال سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں او-زون کے مسئلے کا مستقل اور عملی حل تلاش کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے سامنے تفصیلی مطالبات اور تجاویز پیش کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ او-زون کا معاملہ دہلی کے متعدد قدیم دیہاتوں اور 92 کالونیوں کے تقریباً 15 لاکھ سے زائد باشندوں سے جڑا ہوا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے مکین طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی آبادیوں کو او-زون کے دائرے سے خارج کیا جائے تاکہ جائیداد، تعمیرات اور بنیادی شہری سہولیات سے متعلق مسائل کا مستقل حل ممکن ہو سکے۔
کیا ہے او-زون اور دہلی کا ماسٹر پلان؟
او-زون دراصل دریائے یمنا کے سیلابی میدانوں اور ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں سے متعلق زمین کے استعمال (Land Use) کی ایک درجہ بندی ہے، جسے 2010 میں دہلی کے ماسٹر پلان اور متعلقہ سرکاری پالیسیوں کے تحت نافذ کیا گیا تھا۔ اس زون بندی کے بعد شمالی، شمال مشرقی، مشرقی، جنوبی اور شمال مغربی دہلی کے متعدد قدیم دیہات اور درجنوں آباد کالونیاں اس کے دائرے میں آ گئیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں مکینوں کو تعمیرات، جائیداد کی خرید و فروخت، نقشہ منظوری اور دیگر شہری سہولیات کے حوالے سے مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کا مؤقف ہے کہ کئی دیہات صدیوں سے آباد ہیں اور ان کی آبادی کو او-زون میں شامل کرنا نہ صرف زمینی حقائق کے خلاف ہے بلکہ اس سے لاکھوں لوگوں کے رہائشی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ یمنا کے سیلابی میدانوں کا تحفظ دہلی کے ماحولیاتی توازن اور آبی وسائل کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ او-زون کا مسئلہ محض زمین یا تعمیرات کا معاملہ نہیں بلکہ شہری ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی حقوق کے درمیان توازن کا ایک اہم سوال بن چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…