قومی

Faiz-E-Ilahi Masjid: فیض الہی مسجد میں جمعہ کی نماز سے قبل ہائی الرٹ، مسجد انتظامیہ کی امن و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل

فیض الہی مسجد کے اطراف انسداد تجاوزات مہم کے دوران حالات اس وقت کشیدہ ہوگئے، جب کچھ افراد نے کارروائی کی مخالفت کی۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی قانونی دائرے میں کی جا رہی تھی، مگر موقع پر پہنچنے والے مشتعل افراد نے صورت حال کو بگاڑنے کی کوشش کی، جس کے بعد امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا۔ترکمان گیٹ علاقے میں حالیہ پتھراؤ اور تشدد کے واقعات کے بعد آج دہلی کی فیضِ الٰہی مسجد میں جمعہ کی نماز کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر دہلی پولیس کے ساتھ ساتھ نیم فوجی دستوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ مسجد انتظامیہ اور پولیس نے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔

دہلی پولیس کے مطابق ترکمان گیٹ اور اس کے اطراف سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ فیضِ الٰہی مسجد اور قریبی علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فورس کو الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے۔ مسجد کے سرپرست نجم الدین چودھری نے عوام سے صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگ اپنے گھروں یا قریبی مساجد میں نماز ادا کریں اور غیر ضروری بھیڑ جمع کرنے سے گریز کریں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقے پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

تشدد کا پس منظر اور انتظامیہ کی کارروائی
قابلِ ذکر ہے کہ 6 نومبر کی نصف شب ترکمان گیٹ علاقے میں فیضِ الٰہی مسجد کے قریب غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کی انہدامی ٹیم جب تجاوزات ہٹانے پہنچی تو مقامی افراد نے احتجاج شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ احتجاج پرتشدد ہو گیا ۔صورتحال قابو سے باہر ہونے پر پولیس کو معمولی طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ اس کے بعد علاقے میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی اور بھارتیہ نیا سنہیتا کی دفعہ 163 نافذ کر دی گئی، جس کے تحت چار سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

تحقیقات، ایف آئی آر اور امن کی اپیل
تشدد کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس نے معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس فارنسک جانچ کے ذریعے اس بات کی تحقیق کر رہی ہے کہ کہیں اس تشدد کے پیچھے کوئی منظم سازش تو نہیں تھی۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ قانون و نظم و نسق سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال علاقے میں اضافی سکیورٹی برقرار ہے اور حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں، امن قائم رکھیں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

The Signature Award 2026: نودیپ سنگھ کو سپلائر ڈیولپمنٹ میں نمایاں خدمات کے لیے ’دی سگنیچر ایوارڈ 2026‘ سے نوازا گیا

نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…

56 minutes ago