قومی

Women Rights International Law: نصف آبادی، مکمل شناخت: کیا خواتین کو باہر رکھ کر طالبان کو جائز حکومت مانا جا سکتا ہے؟

مراکش کی ماہر عمرانیات اور خواتین کے حقوق کی دانشور فاطمہ مرنیسی نے کہا تھا کہ خواتین کے حقوق کی لڑائی دراصل اقتدار کی لڑائی بھی ہے۔ یعنی سوال یہ ہے کہ معاشرے میں یہ طے کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے کہ خواتین کا کردار کیا ہوگا اور ان کی آواز کتنی اہم ہوگی۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال اس سوال کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔

خواتین کو عوامی زندگی سے باہر رکھنا حکمرانی کا حصہ

طالبان کے دور حکومت میں خواتین پر تعلیم، روزگار، نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت کے حوالے سے کئی طرح کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان پابندیوں کو صرف انتظامی کمزوری یا سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ناقدین کے مطابق خواتین کو عوامی زندگی سے دور رکھنا طالبان کے نظام حکمرانی کی ایک اہم خصوصیت بن چکا ہے۔ اس کا اثر صرف خواتین کے انفرادی حقوق تک محدود نہیں ہے۔ اس کا براہ راست تعلق اس بات سے ہے کہ ملک کے سیاسی اور سماجی نظام میں خواتین کو کس درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے متعلق بین الاقوامی بحث میں ایک بڑا سوال سامنے آتا ہے کہ کیا طالبان کو افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے؟

کیا طالبان سے بات چیت کا مطلب انہیں تسلیم کرنا ہے؟

انسانی حقوق کے وکیل کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے اس بحث کے ایک اہم پہلو کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ان کے مطابق اکثر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ دنیا کے سامنے صرف دو راستے ہیں، یا تو طالبان کو قانونی حیثیت دی جائے یا پھر افغانستان کو مکمل طور پر الگ تھلگ کردیا جائے۔ لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ کسی ملک میں حقیقی اقتدار رکھنے والے گروہ سے بات چیت کرنا اور اسے قانونی یا سیاسی طور پر جائز حکومت تسلیم کرنا دو الگ معاملات ہو سکتے ہیں۔ افغانستان میں انسانی امداد پہنچانے، شہریوں کی مدد کرنے اور ضروری معاملات پر بات چیت کے لیے طالبان کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ بین الاقوامی برادری طالبان کی حکومت کو جائز یا قابل قبول قرار دے رہی ہے۔

بین الاقوامی قانون میں ’موثر کنٹرول‘ کا اصول

روایتی طور پر بین الاقوامی قانون میں کسی حکومت کی حیثیت کا جائزہ لیتے وقت یہ اہم رہا ہے کہ وہ حقیقت میں ملک کے کتنے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے اور ریاستی اداروں کو کس حد تک چلا رہی ہے۔

یعنی کسی حکومت کو تسلیم کرنے کا سوال طویل عرصے تک بنیادی طور پر سیاسی حقیقت سے جڑا رہا ہے۔ حکومت ملک کے علاقے اور اداروں پر موثر کنٹرول رکھتی ہے یا نہیں، یہ ایک اہم بنیاد رہی ہے۔

اس سوچ میں حکومت کے اندرونی نظام کی کیفیت یا اس کے سیاسی نظریے کو ہمیشہ فیصلہ کن نہیں سمجھا گیا۔ تاہم آج کے بین الاقوامی نظام میں صورتحال زیادہ پیچیدہ ہے۔

انسانی حقوق اب صرف داخلی معاملہ نہیں

اقوام متحدہ کے منشور، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور بعد میں وجود میں آنے والے کئی بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں نے مساوات اور انسانی وقار کو عالمی اصولوں کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس لیے آج یہ کہنا مشکل ہے کہ کسی حکومت کی بین الاقوامی حیثیت اور اس کے نظام حکمرانی کے بنیادی اصولوں کے درمیان کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

موثر کنٹرول آج بھی اہم ہے، لیکن بین الاقوامی نظام میں انسانی حقوق اور مساوات کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے اس سوال کی نوعیت بدل دی ہے کہ کسی اقتدار کو بین الاقوامی قانونی حیثیت کس حد تک دی جا سکتی ہے۔

طالبان کا معاملہ مختلف کیوں نظر آتا ہے؟

طالبان کے حوالے سے مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ان کے دور حکومت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔ تاریخ میں ایسی حکومتوں کو بھی بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے جن پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

طالبان کے معاملے میں خاص تشویش یہ ہے کہ خواتین کو عوامی زندگی سے باہر رکھنا نظام حکمرانی کی ایک مرکزی خصوصیت بن چکا ہے۔ خواتین کی تعلیم، روزگار، عوامی عہدوں اور شہری زندگی میں شرکت پر پابندیوں نے ان کی سماجی اور سیاسی حیثیت کو وسیع پیمانے پر متاثر کیا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سوال صرف انفرادی حقوق کا نہیں رہتا۔ سوال یہ بن جاتا ہے کہ کیا ملک کی نصف آبادی کو منظم طریقے سے سیاسی اور سماجی زندگی سے باہر رکھنے والے نظام کو بین الاقوامی قانونی حیثیت دی جا سکتی ہے؟

قانونی حیثیت دینے کے قانونی اور علامتی اثرات

کسی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا صرف ایک سفارتی قدم نہیں ہوتا۔ اس سے یہ اشارہ بھی جاتا ہے کہ متعلقہ اقتدار کو بین الاقوامی سطح پر ریاست کی نمائندگی کرنے کا حق تسلیم کیا جا رہا ہے۔

اس لیے اگر ایسے اقتدار کو تسلیم کیا جاتا ہے جس کے نظام حکمرانی کی ایک اہم خصوصیت خواتین کا منظم اخراج ہے تو اس کا ایک علامتی پیغام بھی جا سکتا ہے۔

یہ پیغام بین الاقوامی قانون میں قائم مساوات اور مساوی شہری حقوق کے اصولوں سے ٹکراؤ پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ افغانستان کے عوام کو بین الاقوامی برادری سے الگ کردیا جائے۔

افغان عوام کی مدد اور طالبان کو تسلیم کرنا الگ معاملات

افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو وہاں کام کرنا پڑ سکتا ہے۔ ضرورت مند افراد تک امداد پہنچانا، شہریوں کی سلامتی سے متعلق معاملات پر بات چیت کرنا اور ضروری خدمات کو برقرار رکھنا اہم ہو سکتا ہے۔

اس کے لیے طالبان کے ساتھ کسی سطح پر عملی بات چیت بھی ضروری ہو سکتی ہے۔ لیکن عملی بات چیت اور باضابطہ طور پر حکومت کو تسلیم کرنا ایک ہی چیز نہیں ہیں۔

اسی فرق کو اس پورے تنازع کو سمجھنے میں سب سے اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری طالبان کے ساتھ رابطہ برقرار رکھتے ہوئے بھی ان کی حکومت کو سیاسی یا قانونی طور پر جائز تسلیم کرنے سے گریز کر سکتی ہے۔

اصل سوال: اقتدار یا مساوات؟

فاطمہ مرنیسی کے خیالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو خواتین کے حقوق کا سوال آخرکار اقتدار اور اختیار کے سوال سے جڑ جاتا ہے۔ افغانستان میں یہ سوال صرف ملک کی داخلی سیاست تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قانون کے سامنے بھی ایک چیلنج پیش کرتا ہے۔

اگر خواتین کو عوامی زندگی سے منظم طور پر باہر رکھنے والے نظام کو بغیر کسی سوال کے قانونی حیثیت مل جاتی ہے تو بین الاقوامی سطح پر مساوات اور خواتین کے حقوق کے اصولوں کے کردار پر سوال اٹھیں گے۔

اس لیے افغانستان کی بحث کو صرف اس سوال تک محدود نہیں کیا جا سکتا کہ طالبان اقتدار پر قابض ہیں یا نہیں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی اقتدار کا موثر کنٹرول ہی اسے بین الاقوامی قانونی حیثیت دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے، جب اس کا نظام حکمرانی ملک کی نصف آبادی کو عوامی زندگی سے باہر کر رہا ہو؟

افغانستان کو چھوڑ دینا اور طالبان کو تسلیم کرنا، ان دونوں کے درمیان کئی راستے موجود ہو سکتے ہیں۔ انسانی امداد اور بات چیت جاری رکھتے ہوئے بھی باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے سوال کو الگ رکھا جا سکتا ہے۔

یہی فرق مستقبل میں بین الاقوامی قانون کے لیے بھی ایک اہم بحث کا موضوع رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی حقیقت اور انصاف کے اصولوں کو ہمیشہ الگ رکھا جا سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب خواتین کا اخراج کسی نظام حکمرانی کی بنیاد کا حصہ بن جائے؟

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Trade in Local Currencies: ڈالر کا دباؤ ختم اور مقامی کرنسی میں تجارت، برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی قیادت میں بنا نیا عالمی روڈمیپ

برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے…

16 minutes ago

Rajbhar’s Sharp Reaction: اکھلیش یادو کے بیان پر راج بھر کا سخت ردعمل، کہا -ہمت ہے تو مسلم وزیر اعلیٰ بنانے کا کریں اعلان

اکھلیش یادو کے یونیفارم سول کوڈ والے بیان پر سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے، اوم…

39 minutes ago

Trump 100 Percent Tariff: امریکی 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی کے بیچ بھارت کا دوٹوک پیغام، توانائی پالیسی پر نہیں بدلے گا مؤقف

اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے…

57 minutes ago

Cow Theft Suspicion Mob Lynching: گائے چوری کے شبہ میں نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل، کرنی سینا کاعہدیدار گرفتار، کئی ملزم فرار

مدھیہ پردیش کے اندور میں گائے چوری کے شبہ میں ایک نوجوان چندر لوہار کے…

1 hour ago

PM Modi Wishes CM Dhami Birthday: ’دیوبھومی کی ترقی میں دن رات مصروف ہیں دھامی‘، وزیر اعظم مودی نے وزیراعلیٰ کو سالگرہ پر کیا کہا؟

وزیراعظم نریندر مودی نے اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے…

1 hour ago

Union Home Amit Shah: سی ایم دھامی کی سالگرہ پر امت شاہ کا خصوصی پیغام، اتراکھنڈ کی ترقی اور ثقافت کی تعریف

مرکزی وزیرامت شاہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ دھامی کو سالگرہ کی مبارکباد سوشل میڈیا…

2 hours ago