نئی دہلی :26 سالہ کاروباری کیتن اگروال کی 18 جون کو لوہاگڑھ قلعے سے گرنے کے بعد موت ہوگئی تھی۔ اس معاملے میں منگیتر سیا گوئل، اس کے مبینہ عاشق چیتن چودھری اور چیتن کے دوست ریتیش ہانگے کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کی تفتیش میں دونوں کی پھولوں کی ورمالا پہنے ایک تصویر سامنے آئی ہے، جسے کیس کے اہم ثبوت کے طور پر چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران سیا اور چیتن کے موبائل فون میں موجود گفتگو اور دیگر معلومات کی جانچ کی گئی۔ اسی دوران راجستھان میں دونوں کی مبینہ شادی کا سراغ ملا۔ اس کے بعد پونے پولیس کی ایک ٹیم معاملے کی مزید تفتیش کے لیے راجستھان پہنچی۔
کھاٹو شیام مندر میں شادی کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا
تفتیشی ٹیم نے راجستھان میں اس مبینہ شادی کی تصدیق کرنے کی کوشش کی، جس کے بارے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سیا اور چیتن نے کھاٹو شیام مندر میں شادی کی تھی۔تاہم پولیس کو مندر یا اس کے آس پاس سے ایسا کوئی سرکاری ریکارڈ یا سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ملا جس سے شادی کی تصدیق ہو سکے۔ البتہ تفتیش کاروں کو دونوں کے موبائل فون سے ایک تصویر ضرور ملی۔ اس تصویر میں سیا اور چیتن ایک دوسرے کے ساتھ پھولوں کی ورمالا پہنے نظر آ رہے ہیں۔پولیس نے اس تصویر کو کیس سے متعلق ثبوت کے طور پر شامل کیا ہے اور اسے چارج شیٹ کے ساتھ عدالت میں بھی پیش کیا ہے۔
اکتوبر 2025 سے تعلق کا دعویٰ، فروری میں ہوئی منگنی
تفتیش کے مطابق سیا اور چیتن اکتوبر 2025 سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں تھے اور دونوں کے درمیان مبینہ طور پر رشتہ تھا۔ دوسری جانب سیا کا خاندان اس تعلق کے خلاف تھا اور اس کی شادی کیتن سے طے کی گئی تھی۔کیتن اور سیا کی منگنی 19 فروری 2026 کو ہوئی تھی۔ دونوں کی شادی نومبر میں ادے پور میں ہونی تھی۔ تاہم تفتیش کے دوران کیتن کے اہل خانہ نے پولیس کو بتایا کہ سیا اس شادی کو لے کر پہلے بھی اپنی تشویش ظاہر کر چکی تھی۔ اہل خانہ کے مطابق اس نے ایک مرتبہ شادی ایک سال کے لیے مؤخر کرنے کی بات بھی کہی تھی۔
سیا کیتن کو بار بار لوہاگڑھ لے جانے پر اصرار کرتی تھی
پولیس کے مطابق کیتن کی بہن سنجنا اور دیگر رشتہ داروں سے پوچھ گچھ میں یہ بات سامنے آئی کہ سیا بار بار کیتن کو لوہاگڑھ قلعہ لے جانے پر زور دیتی تھی۔تفتیش کے مطابق سیا 31 مئی کو کیتن کو لوہاگڑھ لے گئی تھی۔ 4 جون کو دوبارہ وہاں جانے کی بات ہوئی، لیکن کیتن کی والدہ نے اسے روک دیا۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ 14 جون کو بھی سیا نے لوہاگڑھ کی ایک چٹان سے کیتن کو دھکا دینے کی کوشش کی تھی۔ تفتیش کے مطابق کیتن نے کسی طرح ایک جھاڑی پکڑ کر خود کو بچا لیا۔ جب اس نے اس بارے میں سیا سے سوال کیا تو سیا نے سانپ کا ذکر کرتے ہوئے ایسا ظاہر کیا کہ اس نے اسے بچایا ہے۔
18 جون کو کیتن کی موت
تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد 18 جون کو مبینہ طور پر آخری منصوبے کو انجام دیا گیا اور کیتن کی لوہاگڑھ قلعے سے گرنے کے بعد موت ہوگئی۔سیا اور چیتن دونوں فی الحال پولیس حراست میں ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران دونوں نے معاملے میں اپنے کردار کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی حتمی تصدیق عدالتی کارروائی کے دوران ہی ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو
ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…
ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…