نئی دہلی : بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی اندرونی کشمکش نے ایک ایسا بڑا رخ اختیار کر لیا ہے، جس سے سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے بڑا اعلان کرتے ہوئے اپنے بھتیجے آکاش آنند کو پارٹی سے بے دخل کر دیا ہے۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل مایاوتی کے اس فیصلے سے پارٹی کے اندر کھلبلی مچ گئی ہے۔دراصل ایک روز قبل مایاوتی نے اپنے بھتیجے آکاش آنند کے سامنے پیشکش رکھی تھی کہ اگر ان کے سسر اشوک سدھارتھ سیاست سے سنیاس لے لیں تو وہ آکاش آنند کو پارٹی میں عہدہ اور ذمہ داری دے دیں گی۔ اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے اشوک سدھارتھ نے سیاست سے سنیاس لینے کا اعلان کر دیا، لیکن آج مایاوتی نے آکاش آنند کو بھی پارٹی سے ’آزاد‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
’دیر سے ہی سہی، اشوک سدھارتھ نے صحیح فیصلہ لیا‘
بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں لکھا کہ اشوک سدھارتھ نے سیاست سے سنیاس لینے کا جو فیصلہ کیا، اس میں انہوں نے بہت دیر کر دی، لیکن آخرکار صحیح فیصلہ لیا۔ اگر وہ پہلے ہی سنیاس کا فیصلہ کر لیتے تو بہوجن تحریک اور آکاش آنند کے لیے مسلسل نامساعد حالات پیدا نہ ہوتے۔ نہ ہی انہیں انتخابی تیاریوں اور بہوجن تحریک کو درمیان میں چھوڑ کر تنظیم میں اصلاح کے لیے سخت فیصلے لینے پڑتے۔
’اگر داماد کی فکر ہوتی تو پہلے ہی سنیاس لے لیتے‘
مایاوتی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اشوک سدھارتھ نے سنیاس لینے کا فیصلہ بہت دیر سے کیا۔ اگر انہیں اپنے داماد آکاش آنند کے روشن مستقبل یا بہوجن تحریک کے وسیع تر مفاد کی فکر ہوتی تو وہ بغیر تاخیر کے پہلے ہی سنیاس کا اعلان کر دیتے۔ س سے آکاش آنند کی پارٹی اور تحریک کے تئیں سرگرمی کافی حد تک یقینی بنائی جا سکتی تھی۔مایاوتی کا کہنا ہے کہ وقت پر سنیاس کا فیصلہ نہ لینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اشوک سدھارتھ کی نیت میں کھوٹ ہے اور ان کی خواہشات کم نہیں ہوئی ہیں بلکہ بدستور برقرار ہیں۔
’کیریئر سے زیادہ آکاش آنند کو سسر کی فکر‘
اپنے بھتیجے آکاش آنند سے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے مایاوتی نے لکھا کہ آکاش کو اپنے کیریئر سے زیادہ اپنے سسر سے اس حد تک لگاؤ ہے کہ انہوں نے بی ایس پی کی ایکس پوسٹ کو دوبارہ پوسٹ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا، حالانکہ یہ پوسٹ خود ان کی بھلائی کے لیے تھی۔مایاوتی نے کہا کہ اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اشوک سدھارتھ اور آکاش آنند دونوں کو پارٹی اور تحریک کی کامیابی سے زیادہ ذاتی یا خاندانی مفادات سے وابستگی ہے۔مایاوتی نے اشوک سدھارتھ اور آکاش آنند کو یاد دلایا کہ بی ایس پی ہی وہ پارٹی ہے جس نے انہیں اور کئی دیگر لوگوں کو زمین سے آسمان کی بلندی تک پہنچایا۔ اس کے لیے انہیں بی ایس پی اور اس کی قیادت کے جتنے بھی احسان مانیں، کم ہیں۔
’پہلے عہدے سے آزاد کیا، اب پارٹی سے بھی آزاد کر رہے‘
مایاوتی نے سوال کیا کہ جب آکاش آنند کو پارٹی اور تحریک سے زیادہ رشتے ناتوں کا لگاؤ ہے تو وہ پارٹی کی بھلائی کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے لوگوں کو یہی بہتر لگتا ہے کہ جس طرح پہلے آکاش آنند کو قومی کوآرڈینیٹر کے انتہائی اہم عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، اسی طرح آج انہیں پارٹی سے بھی مکمل طور پر آزاد کر دیا جائے۔مایاوتی نے کہا کہ اگر آکاش آنند اب پارٹی میں آزاد رہنا چاہتے ہیں تو وہ آزاد ہیں۔ انہیں پارٹی سے مکمل طور پر آزاد کیا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ…
الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان سابق جوائنٹ ڈائریکٹر محمد امین نے…
راہل راج سنگھ کا شروع سے دعویٰ رہا ہے کہ وہ اور پرتیوشا دسمبر 2016…
گرین انرجی کوریڈور فیز-III کو کابینہ کی منظوری، 135 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل…
بھارت نے سیریز کا پہلا میچ بھی 8 وکٹوں سے جیتا تھا۔ اب سیریز کا…
پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے…