قومی

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

مودی حکومت کے ’ایکٹ ایسٹ‘ وژن اور آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما کے سیاسی عزم کے امتزاج سے شمال مشرقی ہندوستان کو جدید طبی سہولتوں کے نقشے پر نمایاں مقام دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آسام حکومت نے ہفتے کے روز گوہاٹی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور ریاستی انتظام کے تحت چلنے والا جدید پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کے لیے عالمی شہرت یافتہ ادارے ’آئی بی اے پارٹیکل تھراپی انڈیا‘ کے ساتھ ایک اہم مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ ریاستی دارالحکومت ڈسپور کے لوک سیوا بھون میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما کی موجودگی میں اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ پروٹون بیم تھراپی کو دنیا کی جدید اور انتہائی درست کینسر علاج کی تکنیکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اب تک ہندوستان میں یہ سہولت صرف دو منتخب نجی اور ٹرسٹ کے زیر انتظام اداروں، ممبئی کے ٹاٹا میموریل اور چنئی کے اپولو میں دستیاب تھی، جہاں اس علاج پر تقریباً 40 سے 50 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے۔ اس نئے مرکز کے قیام سے آسام ہی نہیں، بلکہ پورے شمال مشرقی خطے کے معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کے مریضوں کو بھی اس جدید علاج تک کم خرچ میں رسائی ملنے کی امید ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما نے اس پیش رفت پر کہا:

’’ہمارا مقصد اور عزم بالکل واضح ہے۔ پیسوں کی کمی کے باعث کسی مریض کی زندگی کی سانسیں نہیں رکنی چاہئیں اور کوئی بھی شہری جدید علاج سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی مسلسل رہنمائی اور مرکزی حکومت کے مضبوط تعاون سے ہم ملک کے مہنگے ترین طبی طریقۂ علاج میں شمار ہونے والی اس سہولت کو عام شہریوں کے لیے سرکاری صحت کے شعبے میں لا رہے ہیں۔ یہ پورے ملک کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔‘‘

600 کروڑ روپے کا مالی منصوبہ: مرکز اور ریاست کی مشترکہ کوشش

اس عالمی معیار کے منصوبے پر مجموعی طور پر 600 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے اس کے مالی ڈھانچے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:

مرکزی حکومت کا تعاون: منصوبے کے لیے عالمی بینک سے 315 کروڑ روپے قرض کے طور پر حاصل کیے جائیں گے، جس میں سے تقریباً 270 کروڑ روپے کا مالی بوجھ مرکزی حکومت برداشت کرے گی۔

آسام آروگیہ ندھی کی رقم: کووڈ-19 وبا کے دوران آسام کے عوام نے ’آسام آروگیہ ندھی‘ میں جو عطیات دیے تھے، ان میں سے بچی ہوئی 60 کروڑ روپے کی رقم سود سمیت اس عوامی مفاد کے منصوبے میں استعمال کی جائے گی۔

ریاستی خزانہ: باقی ضروری مالی وسائل آسام حکومت اپنے ریاستی بجٹ سے فراہم کرے گی۔

کیا ہے پروٹون بیم تھراپی اور یہ عام ریڈی ایشن سے کس طرح مختلف ہے؟

کینسر کے روایتی علاج میں استعمال ہونے والی ریڈی ایشن تھراپی، جس میں ایکس رے کے ذریعے ٹیومر کو نشانہ بنایا جاتا ہے، بعض اوقات اس کے راستے میں موجود اور اس کے پیچھے واقع صحت مند اعضا اور بافتوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس کے برعکس پروٹون بیم تھراپی کو زیادہ درست طریقے سے ٹیومر کو نشانہ بنانے والی جدید تکنیک قرار دیا جاتا ہے۔ گوہاٹی کے مرکز میں جدید ’پروٹیئس ون‘ نظام نصب کیا جائے گا، جو نسبتاً مختصر اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس میں پروٹون ذرات کو انتہائی باریک پیمانے پر ٹیومر کی جانب بھیجا جاتا ہے۔ اس تکنیک میں پروٹون ذرات ٹیومر کے اندر پہنچ کر اپنی زیادہ تر توانائی ایک مخصوص مقام پر خارج کرتے ہیں۔ اس عمل کو ’بریگ پیک‘ کا اصول کہا جاتا ہے۔ اس سے ٹیومر کے آس پاس موجود صحت مند بافتوں اور اہم اعضا کو روایتی ریڈی ایشن کے مقابلے میں کم نقصان پہنچنے کا امکان ہوتا ہے۔ یہ طریقۂ علاج دماغ، ریڑھ کی ہڈی، آنکھ، پھیپھڑوں اور چھاتی کے کینسر کے بعض پیچیدہ معاملات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم علاج کی موزونیت کا انحصار مریض کی بیماری اور طبی صورت حال پر ہوتا ہے۔

بچوں کے کینسر کے علاج میں اہم سہولت

کینسر سے متاثرہ بچوں کے جسم اور اندرونی اعضا بالغ افراد کے مقابلے میں ریڈی ایشن کے اثرات کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ روایتی ریڈی ایشن سے بچوں کے دماغ، دل، ہڈیوں کی نشوونما اور ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ مستقبل میں دوبارہ کینسر ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ پروٹون بیم تھراپی میں ریڈی ایشن کو زیادہ درست انداز میں ٹیومر تک محدود رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے صحت مند اعضا کو پہنچنے والے نقصان اور طویل مدتی مضر اثرات کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔ اس طرح علاج کے بعد بچوں کے معیارِ زندگی کو بہتر رکھنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا کا طبی مرکز بننے کی سمت میں آسام

آسام حکومت پہلے ہی ٹاٹا ٹرسٹ کے تعاون سے ریاست میں 17 سپر اسپیشلٹی کینسر اسپتالوں کا تین سطحی نیٹ ورک قائم کر رہی ہے۔ ان میں سے 12 اسپتال مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جبکہ باقی 5 اسپتال اگلے دو برس میں فعال ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ’ایکٹ ایسٹ‘ پالیسی کے تحت آسام کی جغرافیائی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گوہاٹی میں قائم ہونے والا یہ نیا پروٹون تھراپی مرکز صرف آسام، اروناچل پردیش، میگھالیہ، ناگالینڈ اور میزورم کے مریضوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال اور میانمار جیسے پڑوسی ممالک کے کینسر مریضوں کے لیے بھی علاج کی ایک اہم منزل بن سکتا ہے۔ مرکزی وزارتِ صحت نے بھی آسام کے اس عوامی صحت کے ماڈل کو ملک کی دیگر ریاستوں کے لیے قابلِ تقلید قرار دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

4 minutes ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

56 minutes ago

Azam Khan arrested by ED from Rampur Jail: جیل سے رہا ہوتے ہی حراست میں اعظم خان، ای ڈی نے کسا شکنجہ، عبداللہ اعظم ہوگئے رہا

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈراعظم خان کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ٹیم نے رام…

2 hours ago

جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی زندگی کا آغاز، صحافی ندھی رازدان سے کرلی شادی

 جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک بڑی خوشخبری سوشل…

2 hours ago