قومی

Great Revolution in the Power Sector: پاور سیکٹر میں بڑا انقلاب: 2047 تک بجلی کی صلاحیت 4 گنا بڑھے گی، گوتم اڈانی نے بتایا ’نیو انڈیا‘ کا وژن

‘بھارت کسی دوسرے ملک کے نقشِ قدم پر چل کر نہیں، بلکہ اپنی ضروریات اور اپنی رفتار سے دنیا کی قیادت کرے گا۔’ یہ کہنا ہے اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کا۔ پیر کے روز دہلی میں منعقدہ ‘CII اینوئل بزنس سمٹ 2026’ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بھارت کے مستقبل کے حوالے سے ایک ایسا وژن پیش کیا، جو ہر بھارتی کے لیے فخر کا باعث بن سکتا ہے۔گوتم اڈانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ بھارت کا ترقیاتی ماڈل امریکہ یا چین کی نقل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی خیالی مستقبل کے لیے نہیں، بلکہ ایسے بھارت کی تعمیر کر رہے ہیں جو زندہ، ابھرتا ہوا اور مسلسل بڑھتی ہوئی ضروریات رکھنے والا ملک ہے۔

بھارت کا راستہ الگ کیوں ہے؟

اڈانی نے وضاحت کی کہ بھارت کے پاس ایک ’قدرتی برتری‘ موجود ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کو مانگ (Demand) پیدا کرنی پڑتی ہے، جبکہ بھارت میں مانگ پہلے سے موجود ہے۔ ہمارے بڑھتے ہوئے شہر، بڑھتی ہوئی کھپت، الیکٹرک موبیلٹی اور ترقی کے منتظر لاکھوں چھوٹے کاروبار ہی اس ترقی کے اصل انجن ہیں۔انہوں نے کہا،’’ہم جو کچھ بھی بنائیں گے، اس کے لیے گاہک پہلے سے موجود ہیں۔ ہمارا اصل چیلنج صرف اس بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا ہے۔‘‘

بجلی اور توانائی: 2047 کا عظیم ہدف

توانائی کے شعبے کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے گوتم اڈانی نے ایک اہم اعداد و شمار پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ 2026 تک بھارت نے 500 گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس میں سے 53 فیصد صلاحیت صرف گزشتہ 10 برسوں میں شامل کی گئی۔ اب بھارت کا ہدف ہے کہ 2047 تک اس صلاحیت کو چار گنا بڑھا کر 2,000 گیگاواٹ تک پہنچایا جائے۔ اڈانی نے اسے صرف ایک علامتی ہدف نہیں بلکہ قومی سطح پر “عملی نفاذ” قرار دیا۔

تیزی سے بڑھتی معیشت

بھارت کی معاشی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے گوتم اڈانی نے ایک دلچسپ موازنہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد بھارت کو 2 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے میں 67 سال لگے، لیکن اگلے 2 ٹریلین ڈالر صرف 12 سال میں حاصل کر لیے گئے۔انہوں نے کہا،’’بھارت اب آہستہ آہستہ ترقی نہیں کر رہا، بلکہ تیز رفتار کمپاؤنڈنگ گروتھ کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ آج ہر سڑک، بندرگاہ، ایئرپورٹ اور ڈیٹا سینٹر اگلے مرحلے کی ترقی کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔‘‘

AI سے ڈریں نہیں، اسے ہتھیار بنائیں

مصنوعی ذہانت (AI) کے باعث ملازمتیں ختم ہونے کے خدشات پر گوتم اڈانی نے مغربی ممالک کی سوچ کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا،’’بھارت کو مغربی دنیا کے خوف ادھار لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘انہوں نے UPI کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح UPI نے موبائل فون کو صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بلکہ کمائی کا ذریعہ بنا دیا، اسی طرح AI چھوٹے کاروباروں کی پیداواری صلاحیت بڑھائے گا اور نئے بازار پیدا کرے گا۔تاہم انہوں نے خبردار بھی کیا کہ AI کے فروغ کے لیے بہت زیادہ بجلی اور مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر درکار ہوگا، جس کے لیے ابھی سے تیاری کرنا ضروری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

4 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

5 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

5 hours ago