نئی دہلی :اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے کہا ہے کہ ان کا گروپ بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی اور ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کرکے بھارت کے صاف توانائی اور ڈیجیٹل مستقبل کی مضبوط بنیاد تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر کے روز منعقدہ ’CII Annual Business Summit 2026‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔گوتم اڈانی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ گجرات کے کھاوڑا میں قائم کیا جا رہا اڈانی گروپ کا رینیوایبل انرجی پروجیکٹ دنیا کا سب سے بڑا سنگل سائٹ قابلِ تجدید توانائی پلانٹ بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس 30 گیگاواٹ منصوبے کا تقریباً 35 فیصد حصہ پہلے ہی فعال کیا جا چکا ہے، جو بھارت کے توانائی نقشے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دے گا۔
انہوں نے کہا، “گجرات کے کھاوڑا میں اڈانی گروپ نے دنیا کے سب سے بڑے سنگل سائٹ رینیوایبل انرجی پلانٹ کے 35 فیصد حصے کو کمیشن کر دیا ہے۔ یہ 30 گیگاواٹ کا منصوبہ بھارت کے انرجی جغرافیے کو یکسر بدل دے گا۔”گوتم اڈانی نے مزید کہا کہ توانائی کی منتقلی یعنی انرجی ٹرانزیشن کے لیے اڈانی گروپ کی مجموعی سرمایہ کاری 100 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث یہ دنیا کے سب سے بڑے کلین انرجی سرمایہ کاروں میں شامل ہو گیا ہے۔انہوں نے ڈیٹا سینٹر سیکٹر میں گروپ کی توسیع پر بھی روشنی ڈالی اور اسے بھارت کی مستقبل کی ترقی کی دوسری اہم بنیاد قرار دیا۔ ان کے مطابق اڈانی گروپ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر انٹیگریٹڈ ڈیٹا سینٹر کیمپس تعمیر کر رہا ہے۔
گوتم اڈانی نے کہا، “گوگل کے اشتراک سے ہم وشاکھاپٹنم میں ملک کا سب سے بڑا گیگاواٹ اسکیل ڈیٹا سینٹر کیمپس تیار کر رہے ہیں۔ یہ بھارتی سرزمین پر خودمختار کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہے۔”انہوں نے بتایا کہ مائیکروسافٹ بھی اڈانی گروپ کے ڈیٹا سینٹر مشن میں اہم شراکت دار ہے، جبکہ فلپ کارٹ اور اوبر جیسی بڑی کمپنیاں بھی اپنی ڈیٹا ضروریات کے لیے اڈانی گروپ کے انفراسٹرکچر پر انحصار کر رہی ہیں۔
حال ہی میں منعقد AI Summit کا حوالہ دیتے ہوئے گوتم اڈانی نے کہا کہ گروپ نے ڈیٹا سینٹر بزنس کے لیے مزید 100 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت کو اپنی بجلی کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بھی ملک کے اندر ہی تیار کرنا ہوگا تاکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی پر خود انحصاری حاصل کی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ “انٹیلی جنس ایج” یعنی مصنوعی ذہانت کے دور میں بڑی تعداد میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہوگی۔ ٹیکنیشنز، انجینئرز، گرڈ مینیجرز اور آپریٹرز مستقبل کے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔گوتم اڈانی نے بتایا کہ اڈانی فاؤنڈیشن کے ذریعے گروپ نے تعلیم، صحت، اسکل ڈیولپمنٹ اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے لیے 60 ہزار کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ AI سے مربوط تربیتی پروگراموں اور اسکلنگ اقدامات پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کے مطابق تیار کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
غیر ملکی زرِمبادلہ سے 2.76 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی، سیاحت کے شعبے نے…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…